ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

جمعرات 28 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیرِ قیادت قائم کیے گئے’بورڈ آف پیس‘ کے غزہ تعمیرِ نو فنڈ میں تاحال کوئی رقم جمع نہیں ہو سکی، حالانکہ رکن ممالک کی جانب سے اربوں ڈالر کے وعدے کیے گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق فنڈ کو تعمیرِ نو کے مرحلے کے لیے بنایا گیا تھا، جبکہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں اور انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ ’بورڈ آف پیس‘ کے سرکاری غزہ تعمیرِ نو فنڈ میں ابھی تک کوئی رقم جمع نہیں کرائی گئی، باوجود اس کے کہ کئی ممالک اربوں ڈالر کی امداد کا وعدہ کر چکے ہیں۔

بورڈ سے واقف ایک ذریعے نے بدھ کے روز عالمی خبر رساں ادارے ’ اے ایف پی‘ کو بتایا کہ فنڈ کو عالمی بینک کے تحت چلایا جا رہا ہے اور اسے اقوامِ متحدہ کی بھی حمایت حاصل ہے، تاہم اب تک کسی ڈونر ملک نے اس میں رقم منتقل نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیے ’ایسے تو مسئلہ کشمیر بھی بورڈ آف پیس میں جا سکتا ہے‘، مودی سرکار پریشانی کا شکار

ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اس بورڈ کا تصور اُس وقت پیش کیا تھا جب اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکا کی حمایت سے جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا۔ اس جنگ بندی کا مقصد تقریباً 2  برس سے جاری تباہ کن جنگ کو روکنا تھا۔

تاہم بورڈ کے قیام کے فوراً بعد ٹرمپ کی جانب سے وسیع پیمانے پر ممالک کو شمولیت کی دعوت دینے پر حیرت کا اظہار کیا گیا، جن میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سمیت ایسے ممالک بھی شامل تھے جن کا مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری سے روایتی طور پر کوئی خاص تعلق نہیں رہا۔

ذرائع کے مطابق فنڈ میں رقم اس لیے جمع نہیں کرائی گئی کیونکہ یہ تعمیرِ نو اور ترقیاتی مرحلے کے لیے مخصوص ہے، جبکہ غزہ میں حالات ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچ سکے۔

جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد اب تک کم از کم 910 افراد شہید ہو چکے ہیں۔

اسرائیل اب بھی غزہ کی تقریباً 60 فیصد سرزمین اور تمام داخلی و خارجی راستوں پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ زیادہ تر آبادی ساحلی علاقوں تک محدود ہو چکی ہے۔

دوسری جانب برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا  ہے کہ بورڈ کو چند عطیات براہِ راست جے پی مورگن بینک کے اکاؤنٹ میں موصول ہوئے ہیں۔ اخبار نے یہ دعویٰ بورڈ کے ترجمان کے حوالے سے کیا۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق اس اکاؤنٹ کے لیے کوئی آزادانہ شفافیت یا نگرانی کا نظام موجود نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی بڑے یورپی ممالک نے اس بورڈ سے فاصلہ اختیار کر رکھا ہے۔ بورڈ میں زیادہ تر امریکا کے مشرقِ وسطیٰ میں دیرینہ اتحادی، ٹرمپ کے نظریاتی حامی اور وہ چھوٹے ممالک شامل ہیں جو امریکی توجہ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔

فرانس اور برطانیہ نے بورڈ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے بورڈ آف پیس: ایک ارب ڈالر دیں، مستقل رکنیت لیں، ٹرمپ کی پیشکش

یہ بورڈ عملاً صرف امریکا ہی نہیں بلکہ ذاتی طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں چل رہا ہے، اور اس کے تمام اہم فیصلوں کا حتمی اختیار بھی ٹرمپ کے پاس ہے۔ رپورٹ کے مطابق وہ صدارت کے بعد بھی اس بورڈ کی قیادت برقرار رکھ سکتے ہیں۔

ٹرمپ اس سے قبل اعلان کر چکے ہیں کہ امریکا بورڈ کے لیے 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔

بورڈ کے چارٹر کے مطابق مستقل رکنیت حاصل کرنے کے لیے ہر ملک کو ایک ارب ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔

یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے اپریل میں جاری مشترکہ جائزہ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ جنگ سے تباہ حال غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے آئندہ 10  برسوں میں 71 ارب ڈالر سے زائد رقم درکار ہوگی۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ میں انسانی صورتحال اس وقت ’انتہائی تشویشناک‘ سطح پر پہنچ چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp