امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا نے حالیہ حملوں کے بعد جنگ بندی میں توسیع کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔ دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان محدود فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک نے 60 روزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران نے امریکی حملوں کے ردعمل میں کویت میں قائم ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران میں ایک ڈرون آپریشن سے متعلق اہداف پر کارروائی کی تھی۔
تاہم اس رپورٹ کی فوری طور پر کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی، البتہ خبر کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان کی امن کوششیں مزید تیز، اسحاق ڈار کا اہم دورۂ واشنگٹن، کل مارکو روبیو سے ملاقات ہوگی
صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز کابینہ اجلاس کے دوران ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ جنگ کے خاتمے کا وقت قریب ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ مذاکرات کی موجودہ پیش رفت سے ابھی مطمئن نہیں اور امریکا ایران پر عائد پابندیاں نرم کرنے پر غور نہیں کر رہا، جو تہران کے اہم مطالبات میں شامل ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان محدود فوجی کارروائیاں
حالیہ حملوں نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ اپریل کے اوائل میں ہونے والی عارضی جنگ بندی اب بھی انتہائی نازک مرحلے میں ہے۔ تین ماہ سے جاری اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ خطے میں کشیدگی کے باعث اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز بھی متاثر رہی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے پانچ حملہ آور ڈرونز مار گرائے جبکہ بندر عباس کی بندرگاہ میں قائم ایک زمینی کنٹرول اسٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں سے چھٹا ڈرون لانچ کیے جانے کی تیاری کی جا رہی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق کویتی افواج نے بھی ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا جو کویت کی جانب داغا گیا تھا۔ کویت میں امریکا کا ایک بڑا فوجی اڈہ موجود ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی اقدامات محدود اور دفاعی نوعیت کے تھے اور ان کا مقصد صرف جنگ بندی برقرار رکھنا تھا۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے امریکی حملے کے ذمہ دار امریکی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس کا ’زیادہ فیصلہ کن جواب‘ دیا جائے گا۔
کویت نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایران سے فوری طور پر کشیدگی بڑھانے والے اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
عیدالاضحیٰ کے دوران خطے میں کشیدگی
یہ ہفتے کے دوران دوسرا بڑا تصادم ہے اور یہ ایسے وقت میں پیش آیا جب پورے خطے میں عیدالاضحیٰ منائی جا رہی تھی۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد متعدد ممالک اس تنازع کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔
پاکستان، جو اس بحران میں ثالثی کی کوششوں میں شامل ہے، نے اعلان کیا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار جمعہ کو واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے، تاہم اس دورے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
لبنان میں بھی کشیدگی
ادھر لبنان میں بھی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ لبنان کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کا حصہ ہونا چاہیے، جبکہ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی شہر صور میں ایران نواز تنظیم حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے اور دارالحکومت بیروت میں بھی کارروائی کی گئی ہے۔
لبنانی فوج کے مطابق ایک حملے میں اس کا ایک اہلکار ہلاک ہوا، جبکہ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی علاقوں میں فضائی حملوں کے سائرن بھی بجائے گئے۔
امریکا کی عمان کو وارننگ
امریکا نے عمان کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا ٹول یا فیس نافذ کرنے کی کوشش میں شامل نہ ہو، بصورت دیگر متعلقہ فریقوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں ٹول سسٹم نافذ کرنے میں ملوث کسی بھی فریق کے خلاف سخت اقدامات کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے ایران امریکا کشیدگی میں نرمی کی امید، خام تیل کی قیمتیں نیچے آگئیں
صدر ٹرمپ نے بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کے کنٹرول میں نہیں رہے گی۔ انہوں نے عمان کو مخاطب کرتے ہوئے سخت لہجہ اپنایا اور کہا کہ عمان کو بھی دیگر ممالک کی طرح رویہ اختیار کرنا ہوگا۔
تاہم عمان نے ایران کے ساتھ مشترکہ کنٹرول کے کسی منصوبے کا ذکر نہیں کیا۔ عمانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ صرف جہاز رانی کی آزادی سے متعلق بات چیت ہوئی ہے، جبکہ تہران نے امریکی حکام کی ’دھمکیوں‘ کے بعد عمان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔














