ڈرونز کے ذریعے کم بلندی والی فضائی معیشت دنیا بدل دے گی، بلال بن ثاقب

جمعہ 29 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ ڈرونز پر انحصار کرتے ہوئے ابھرتی ہوئی ‘لو آلٹیٹیوڈ اکانومی یا کم بلندی والی فضائی معیشت’ مستقبل میں دنیا کو بدل کر رکھ دے گی۔

ان کے مطابق یہ تبدیلی صرف ڈرونز تک محدود نہیں ہوگی بلکہ مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، سافٹ ویئر، ادائیگیوں کے نظام، قواعد و ضوابط، ڈیٹا انفرااسٹرکچر اور انسانی مہارتوں سے بھی جڑی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: ریاض میں پہلی سعودی ڈرون اور مصنوعی ذہانت کی زرعی نمائش ’سادف‘ کا انعقاد

اپنے ایک ویڈیو بیان میں بلال بن ثاقب نے کہا کہ زیادہ تر لوگ ڈرونز کو محض اڑنے والے کیمروں کے طور پر دیکھتے ہیں، تاہم حقیقت میں یہ عالمی معیشت کی اگلی سطح کی بنیاد بننے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کم بلندی والی فضائی معیشت کے تحت شہروں، کھیتوں، سڑکوں، فیکٹریوں، بندرگاہوں اور دیہاتوں کے اوپر موجود فضائی حدود بھی باقاعدہ اقتصادی سرگرمیوں کا حصہ بن جائیں گی۔

ان کے مطابق مستقبل میں ڈرونز عمارتوں کا معائنہ کریں گے، ادویات کی ترسیل کریں گے، فصلوں کی نگرانی کریں گے، ہنگامی صورتحال میں مدد فراہم کریں گے، شہروں کی نقشہ سازی کریں گے۔

اہم انفرااسٹرکچر کی سیکیورٹی بہتر بنائیں گے اور سامان کی ترسیل کو موجودہ سڑکوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز بنا دیں گے۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ اصل مواقع صرف ڈرونز میں نہیں بلکہ ان کے گرد قائم ہونے والے پورے نظام میں موجود ہیں، جن میں مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر، ڈیٹا مینجمنٹ، فضائی ٹریفک کنٹرول،

ادائیگیوں کے نظام، تصدیقی عمل، انشورنس، ریگولیشن اور ان سسٹمز کو چلانے کے لیے تربیت یافتہ افراد شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: چین میں ڈرون قوانین کا نیا دور، یکم جولائی سے تمام اداروں کے لیے سخت قواعد نافذ

انہوں نے کہا کہ مستقبل کے شہر صرف زمین پر نہیں بلکہ ان کے اوپر فضاؤں میں بھی منصوبہ بندی کے تحت تشکیل دیے جائیں گے، جبکہ جو ممالک اور کمپنیاں اس تبدیلی کو جلد سمجھ لیں گی، وہ

نئی ملازمتوں، پلیٹ فارمز اور صنعتوں کی قیادت کریں گی۔

چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی نے مزید کہا کہ مستقبل کی معیشت صرف سڑکوں پر نہیں چلے گی بلکہ ان کے اوپر فضا میں پرواز کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp