مکہ رصدگاہ کا ابو قبیس سے کلاک ٹاور تک کا سفر، مسجد الحرام کے استاد کی تجویز پر حکومت کا انقلابی اقدام

جمعہ 29 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مکہ مکرمہ میں فلکیاتی رصدگاہ کے قیام کا خیال ابتدائی سائنسی منصوبوں میں شامل تھا جس کا مقصد چاند دیکھنے اور مذہبی اوقات کے درست تعین میں مدد فراہم کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جدہ میں تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن دنیا کی بلندترین عمارت

کنگ عبدالعزیز فاؤنڈیشن کے مطابق اس رصدگاہ کی تاریخ 1366 ہجری (1947ء) سے شروع ہوتی ہے جب مسجد الحرام اور دارالحدیث کے استاد شیخ محمد عبدالرزاق حمزہ نے مکہ میں ایک جدید فلکیاتی رصدگاہ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔

انہوں نے  شاہ سعود بن عبدالعزیز آل سعود (اس وقت کے ولی عہد) کو ایک خط لکھا جس میں جدید فلکیاتی آلات جیسے تھیوڈولائٹ اور سیکسٹنٹ کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ اجرام فلکی کی درست پیمائش کی جا سکے۔

مزید پڑھیے: مکہ مکرمہ: سعودی خواتین حج سیزن میں زائرین کی خدمت میں پیش پیش

حکومتی تعاون سے یہ آلات مکہ پہنچے اور رصدگاہ کا پہلا مرکز جبل ابو قبیس کی چوٹی پر قائم کیا گیا جہاں سے چاند دیکھنے اور فلکیاتی مشاہدات کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

وقت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کے بعد رصدگاہ کو مکہ کلک ٹاور منتقل کر دیا گیا جہاں یہ آج اسلامی دنیا کی نمایاں فلکیاتی رصدگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: مکہ مکرمہ: قرآن پاک کا 1623 میں شائع ہونے والا پہلا نادر جرمن ترجمہ نمائش کے لیے پیش

یہ رصدگاہ جدید دوربینوں اور جدید آلات سے لیس ہے جو خصوصاً رمضان اور شوال کے چاند کی رویت اور نمازوں کے اوقات کے درست تعین میں مدد فراہم کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp