میٹا نے اپنے ملازمین کے کمپیوٹرز پر ایک خصوصی نگران سافٹ ویئرانسٹال کیا ہے، جسے کمپنی کی اندرونی دستاویزات میں ایک مخصوص پراجیکٹ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ عام عوام کے استعمال کے لیے نہیں بلکہ صرف کمپنی کے اپنے عملے کے لیے تیار کردہ ایک تکنیکی ٹول ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے
یہ سافٹ ویئر ملازمین کے کمپیوٹر پر خاموشی سے پس منظر میں چلتا رہتا ہے اور ان کی ہر چھوٹی بڑی سرگرمی کو ریکارڈ کرتا ہے۔ جیسے وہ ماؤس کو کہاں لے جارہے ہیں، کہاں کلک کررہے ہیں، کون سا مواد کاپی کررہے ہیں اور دفتری ایپلی کیشنز یا ویب سائٹس کو کس طرح استعمال کررہے ہیں۔
اس کا بنیادی مقصد ملازمین پر نظر رکھنا نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ انسان کمپیوٹر پر روزمرہ کے دفتری کام کس طرح انجام دیتے ہیں۔ میٹا اس ریکارڈ شدہ ڈیٹا کی مدد سے اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو تربیت دینا چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے خودکار ڈیجیٹل اسسٹنٹ بنائے جاسکیں جو انسانوں کی طرح کمپیوٹر پر مختلف کام خود بخود کرسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا اے آئی کا انقلابی قدم: مکمل نجی گفتگو کے لیے ’انکوگنیٹو چیٹ‘ متعارف
چونکہ یہ سافٹ ویئر کمپیوٹر کی اسکرین پر ہونے والی ہر چیز کو نوٹ کرتا ہے، اس لیے جب امریکی ملازمین یورپ میں موجود اپنے ساتھیوں کے ساتھ ای میل یا پیغام رسانی کے ذریعے بات چیت کرتے ہیں، تو یہ سافٹ ویئر ان یورپی ملازمین کی گفتگو اور ڈیٹا کو بھی اپنے پاس محفوظ کر لیتا ہے، جس سے یورپ کے سخت قوانین اور رازداری کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔













