کوئٹہ سے تل ابیب تک

اتوار 31 مئی 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لگ بھگ ہفتہ قبل ہونے والا کوئٹہ ٹرین حملہ متبادل مغربی میڈیا پر اہم تجزیہ کاروں کی توجہ کھینچ رہا ہے۔ اس موضوع کو وہاں سی آئی اے کے سابق اعلی افسر لیری جانسن نے چھیڑا ہے۔ لیری کا کہنا ہے کہ کوئٹہ ٹرین حملہ محض کسی دہشتگرد گروپ کا روٹین حملہ نہیں بلکہ  یہ ٹرین پوری منصوبہ بندی کے ساتھ موساد کا چنا گیا ہدف تھی۔ قابل غور بات لیری کے الفاظ کا انتخاب ہے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ لگتا ایسا ہے کہ یہ حملہ شاید موساد نے کروایا ہو۔ وہ ٹھوس لہجے میں کہتے ہیں کہ یہ حملہ موساد نے ہی کروایا ہے۔

پھر ایک اہم چیز یہ کہ لیری محض اس حملے تک نہیں رہتے بلکہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ موساد نے بلوچوں تک رسائی کس طرح حاصل کی تھی؟ وہ اسے 40 سال پیچھے لے جاکر بیان کرتے ہیں کہ پہلی بار جب موساد نے یہ روابط قائم کئے تھے تو امریکی سی آئی اے کا نام استعمال کرکے کئے تھے۔ یعنی اس وقت کے موساد اہلکاروں نے خود کو سی آئی اے اہلکاروں کی حیثیت سے متعارف کروایا تھا۔ اپنی اصل شناخت انہوں نے کچھ سال بعد ظاہر کی تھی۔ لیری جانسن کی یہ بات یوں اہمیت رکھتی ہے کہ اسی دور میں وہ اس لاکربی طیارہ کیس کی تحقیق میں مشغول تھے جو قذافی سے منسوب ہے۔ یوں اس خطے اور آس پاس کی صورتحال سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔

دہشتگردی سے جڑے امور کا ادراک رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ جب کوئی فارن انٹیلیجنس ایجنسی ٹرین حملے جیسا بڑا قدم اٹھاتی ہے تو اس کے ذریعے بالعموم وہ کوئی فوری نتیجہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ سو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئٹہ ٹرین حملے سے موساد کا وہ فوری مطلوب کیا ہے؟ لیری جانسن اس حوالے سے 2 مقاصد بیان کرتے ہیں۔ پہلا لانگ اور دوسرا شارٹ ٹرم۔ لیری کے بقول پچھلے ایک سال کے دوران پاکستان جس طرح مشرق وسطیٰ میں فعال ہوا ہے یہ سیدھا سیدھا اسرائیل کو چیلنج ہے۔ ایٹمی اسرائیل کے مقابلے پر اب مشرق وسطیٰ کی بساط پر ایٹمی پاکستان کھل کر سامنے آچکا۔ وہ پاکستان جس کے ساتھ چھیڑ خانی میں ذرا سی مس کیلکولیشن اسرائیل کے لیے مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔

بات کو مزید کھولتے ہوئے لیر جانسن کہتے ہیں کہ پاکستان کی یہ پیشرفت محض اتنی سی نہیں کہ سعودی عرب اور ایک آدھ مزید عرب ملک کو سیکیورٹی دیدی بلکہ اس کی گہرائی اس سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں، یہ خطے کے ممالک کی صورت میں ایک ایسے ملٹری اتحاد کی جانب پیشرفت ہے جس میں آگے چل کر ترکی، مصر اور ایران جیسے اہم ممالک بھی ہمیں شامل نظر آئیں گے۔ اور جب ایسا ہوگا تو حالیہ تاریخ میں پہلی بار مسلم دنیا کا مشرق وسطیٰ پوری طرح مسلم کنٹرول میں ہوگا۔ اور اسے کسی بھی مغربی ملک کی نام نہاد مدد درکار نہ ہوگی۔

اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہوا کہ اسرائیل کا صرف گریٹر اسرائیل والا خواب ہی نہیں بکھرے گا بلکہ اس کی اپنی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہوجائیں گے۔وہ پوری دیدہ دلیری کے ساتھ غزہ نسل کشی جیسے واقعات دہرا نہیں پائے گا۔ مستقبل میں ایسے کسی بھی اقدام پر اسے پہلے اس مسلم ملٹری اتحاد سے وارننگ ملے گی، اور باز نہ آنے پر ایک ایسی بڑی یلغار ہوگی جس کی مار اسرائیل ہفتہ بھر بھی نہیں سہ سکے گا۔اور پہلی بار ایسا ہوگا جب امریکا کی پوری ٹیکنالوجیکل مدد اسرائیل کے کسی کام نہ آسکے گی۔ لیری جانسن کے مطابق یہ اسرائیل کو درپیش وہ لانگ ٹرم چیلنج ہے جسے پاکستان لیڈ کر رہا ہے۔

کوئٹہ ٹرین حملے کا شارٹ ٹرم ہدف لیری جانسن پاکستان کی وہ ثالثی بتاتے ہیں جسے اب امریکا کی مشہور زمانہ اسرائیلی لابی بھی کھل کر چیلنج کے طور پر ٹریٹ کر رہی ہے۔ ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر سول ملٹری کشمکش ہمیشہ ہی ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ کئی وزرائے اعظم اسی کشمکش کے نتیجے میں رخصت ہوئے ہیں۔ مگر خارجہ پالیسی میں یہ ملٹری رول ہمیشہ پس پردہ رہا ہے۔فرنٹ پلیئر کے طور پر ہمیشہ دفتر خارجہ ہی فعال نظر آیا ہے۔ لیکن ایران امریکا مصالحتی مشن میں پہلی بار فوج کے سربراہ خود فرنٹ پر ہیں۔ یہ محض شوقیہ یا ذاتی نام نمود کے شوق کے سبب نہیں۔ بلکہ ایک سوچھی سمجھی اسٹریٹیجک موو ہے۔

اس موو کے ذریعے فیلڈ مارشل عاصم منیر نیتن یاہو پر واضح کر رہے ہیں کہ سفارتکاری کا یہ عمل محض روایتی سفارتکاری نہیں بلکہ ایک ایسی ’ملٹری سفارتکاری‘ ہے۔ جس کا مکمل کنٹرول وزارت خارجہ کی بجائے وزارت دفاع کے پاس ہے کیونکہ معاملہ ہی جنگی ہے۔ لہٰذا اسے ناکام بنانے کی کوشش سے قبل اس اسرائیل کو 10 بار سوچنا ہوگا، جو پہلے ہی اس جنگ کی صورت ایک جائز ٹارگٹ کے طور پر آسان ہدف ہے۔ یعنی اس کوشش کی ناکامی کی صورت میں پاکستان کی ملٹری کے پاس ممکنہ طور اسرائیل کو سبق سکھانے کے لیے بہت سے آپشنز موجود ہوں گے۔ یوں گویا یہ نیتن یاہو کو ہی طے کرنا ہوگا کہ اسے مصالحتی پاکستان قبول کرنا چاہیے یا پس پردہ حربی؟

قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اس سب کے باوجود کوئٹہ ٹرین حملہ ہوگیا۔ اگر اس کے پیچھے واقعی موساد موجود ہے تو یہ قابل فہم ہے۔ اگر آپ نے حالیہ عرصہ میں اسرائیلی میڈیا کو فالو کیا ہو تو وہاں اب انتہائی اہم افراد کی جانب سے یہ تک کہا جا رہا ہے کہ گریٹر اسرائیل چھوڑیے اب ہمارے پاس اپنے بچاؤ کی واحد صورت یہ بچی ہے کہ 1967 سے قبل والی حدود میں لوٹ جائیں اور فلسطینی ریاست کو قبول کر لیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ مسلم دیا کو گارنٹی دیں کہ ہم فلسطینیوں کے خلاف مزید جارحیت کے ارتکاب سے تائب رہیں گے۔

جانتے ہیں یہ خوفزدہ آوازیں کیوں زور پکڑ رہی ہیں؟ کیونکہ پہلی بار خود اسرائیلیوں کو اس ہولناک حقیقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ امریکا تحفظ فراہم کرنے کے لائق نہیں رہا۔ اسرائیل تو خود پدی جتنا ہے، اس کی اصل طاقت امریکی طاقت ہی رہی ہے۔ اور امریکا ابھی حال ہی میں بیجنگ کے ’مردانہ طاقت‘ بحالی والے کلینک کے دروازے پر دیکھا گیا ہے۔ جیو اسٹریٹیجی کا شعور رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ یہ ابھرتی عالمی طاقت کے آگے باعزت علامتی سرنڈر کا امکان تلاش کرنے کی ہی کوشش تھی۔ اور صدر شی اسی لیے عزت سے پیش آئے تاکہ جو اس بار یہ کہہ رہا ہےکہ میرے ایک دوست کو مردانہ کمزوری کا سامنا ہے، وہ اگلی بار کھل کر کہہ سکے کہ خود اس کو یہ چیلنج درپیش ہے۔

خوفزدہ فرد ہو یا ملک، کرتا وہ اوٹ پٹانگ حرکتیں ہی ہے۔ سو کوئٹہ ٹرین حملہ ایک ایسا ہی بلنڈر ہے۔ اس کے جواب میں پاکستان کو اسرائیل کے خلاف اسی طرح کا قدم اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ ہم تو پہلے ہی اس سے بڑا گیم پلان بنا چکے، ہمیں اسی کو آگے بڑھاتے جانا ہے۔ وہ گیم پلان جس کے نتیجے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اسرائیل کو آکسیجن کم اور زمین تنگ ہوتی محسوس ہو گی۔ ہم نے اس کے گرد بس امت مسلمہ کا سرکل پورا کرنا ہے۔ یہ سرکل پورا ہوتے ہی اسرائیل کو اچھی طرح سمجھ آجائے گا کہ اب دریائے نیل و فرات کی بات کرنا کسی لطیفے سے کم نہ ہوگا۔ اب نیل و فرات نہیں ان علاقوں کی بات ہوگی جو 1967 میں اس نے قبضہ کیے۔ مسلم ممالک کے لیے اس مؤقف پر جارحانہ پوزیشن لینا محض سیاسی ہی نہیں بلکہ اخلاقی و قانونی طور پر بھی بہت ہی آسان ہوگا۔ کیونکہ اس پر اقوام متحدہ کی قرارداد موجود ہے۔ وہ قرارداد جس کے تحت یہ علاقے مقبوضہ ہیں، اور اسرائیل نے خالی کرنے ہیں۔ نہیں کرے گا  تو کوئی بعید نہیں کہ اگلی جنگ معاملے کو 1948 سے بھی پیچھے پہنچا دے۔ وہ دن ہوا ہوئے جب امریکی پسینہ صیہونیت کے لیے گلاب تھا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا حج کے مثالی انتظامات پر سعودی سفیر کو تعریفی خط، سعودی حکومت کو خراجِ تحسین

جعلی چیئرپرسن بن کر پروٹوکول لینے کی کوشش، جہلم پولیس نے ملزمہ کو ساتھی سمیت گرفتار کرلیا

امریکی یومِ آزادی کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، مزید معروف فنکاروں نے شرکت سے انکار کر دیا

واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکا: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد

ویڈیو

ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

پنجاب حکومت کا شرمپ فارمنگ کا منصوبہ کیا ہے، لوگ کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

رکاوٹوں کے باوجود ملائکہ نور نے عالمی اعزاز حاصل کرلیا

کالم / تجزیہ

عورت کو آسان ہدف سمجھنے والے کمزور

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں