یوکرین کی جنگ میں روبوٹس کا بڑھتا کردار، روس دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور

اتوار 31 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گرد و غبار اڑتا ہے، مشین کی مدھم آواز سنائی دیتی ہے، دھندلی تصویر چند لمحوں کے لیے ٹھہرتی ہے اور پھر ایک زوردار دھماکا پورے منظر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

زمین کے نیچے قائم ایک کمانڈ سینٹر میں، آودیئیفکا اور باخموت جیسی خونریز شہری لڑائیوں کے تجربہ کار یوکرینی فوجی ایک نئی طرز کی جنگ کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ ایسی جنگ ہے جس میں نہ بارود کی بو محسوس ہوتی ہے، نہ دشمن سامنے نظر آتا ہے اور نہ ہی سپاہیوں کو براہِ راست محاذ پر جانا پڑتا ہے۔

مشرقی یوکرین میں روسی اہداف پر کیے جانے والے ایک مکمل آپریشن کے دوران چھ دھماکوں کے ذریعے تین روسی مورچوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ زمین پر ایک بھی یوکرینی فوجی موجود نہیں تھا۔ پورا حملہ دور دراز مقام سے کمپیوٹر اسکرینوں اور گیمنگ چیئروں پر بیٹھے آپریٹرز نے کنٹرول کیا، جنہیں اوپر پرواز کرتے جاسوس ڈرونز کی مدد حاصل تھی۔

یہ بھی پڑھیے مُکّا مار کے دیواریں توڑنے والا انسان بردار روبوٹ، چین کی نئی ٹیکنالوجی نے دنیا کو حیران کر دیا

سی این این کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حمایت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اور افرادی قوت کے بحران سے دوچار یوکرین نے گزشتہ چند ماہ میں جنگی حکمتِ عملی میں غیر معمولی تبدیلی کی ہے۔ اس کی جنگی صلاحیت کا بڑا حصہ اب بغیر انسانوں کے چلنے والے نظاموں پر مشتمل ہے، جن میں ڈرونز، روبوٹس اور ریموٹ کنٹرول ٹینک شامل ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز نے روسی افواج کے مقابلے میں یوکرین کو ایک اہم، اگرچہ نازک، برتری فراہم کی ہے۔

اپریل میں صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا تھا کہ پہلی مرتبہ صرف روبوٹس اور ڈرونز کی مدد سے ایک روسی پوزیشن پر قبضہ کیا گیا۔ ان کے مطابق جنوری سے اب تک بغیر انسانوں کے چلنے والی مشینیں 22 ہزار سے زائد مشن انجام دے چکی ہیں۔

یوکرینی فوجی یونٹ ’این سی 13‘ کے مطابق روسی جنگی قیدی ان دھماکا خیز روبوٹس کو ’خاموش موت‘ کا نام دیتے ہیں۔ چار پہیوں پر مشتمل یہ مشینیں بڑی مقدار میں بارودی مواد لے کر چلتی ہیں اور دشمن انہیں صرف اس وقت سن پاتا ہے جب وہ تقریباً دس میٹر کے فاصلے پر پہنچ چکی ہوتی ہیں، جو ان کے دھماکے کی زد میں آنے کے لیے کافی ہے۔

ایک کارروائی کے دوران پہلا روبوٹ راستے میں پڑے ایلومینیم کے ملبے سے الجھ گیا اور کچھ دیر تک پہیے گھومتے رہے، تاہم بالآخر اس نے رکاوٹ عبور کر لی۔ فضائی نگرانی کرنے والے ڈرون کی تصاویر میں چند لمحوں بعد دھماکے کی حرارتی لہر واضح دکھائی دی۔ جلد ہی دوسرا دھماکا بھی ہوا۔ یہ ابتدائی حملے روسی فوجیوں کی توجہ ہٹانے کے لیے کیے گئے تاکہ مزید چار روبوٹس خاموشی سے دشمن کی صفوں کے پیچھے پہنچ سکیں۔

اس یونٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 164 حملوں کے نتائج حاصل کرنے کے لیے روایتی انداز میں تقریباً 2300 فوجیوں کی ضرورت پڑتی، جبکہ اندازاً نصف دستہ ہلاک یا زخمی ہو جاتا۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ روبوٹک حملوں نے کم از کم ایک ہزار یوکرینی جانیں بچائی ہیں۔

یونٹ کے نائب کمانڈر ’بار‘ نے کہا کہ ڈونباس کی شدید شہری لڑائیوں کے دوران وہ ایسی ٹیکنالوجی کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ ان کے بقول اگر یہ سہولت اس وقت موجود ہوتی تو ان کے کئی ساتھی آج زندہ ہوتے۔

دوسری جانب یونٹ کے کمانڈر میکولا ’ماکار‘ زنکیویچ کا کہنا ہے کہ ماضی کی جنگوں میں فوجی تربیت، نظم و ضبط اور ذاتی مہارت فیصلہ کن کردار ادا کرتی تھی، لیکن اب ٹیکنالوجی سب کچھ طے کر رہی ہے اور اس حقیقت سے واپسی ممکن نہیں۔

نئی جنگ، نئے ہیرو

یوکرین کی یہ حکمتِ عملی بنیادی طور پر افرادی قوت کی کمی کا نتیجہ ہے۔ چار برس سے جاری روسی حملوں نے ملک کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے، تاہم ڈرون ٹیکنالوجی میں ابتدائی سرمایہ کاری اور اس کی وسیع پیمانے پر پیداوار نے روس پر بھی نمایاں دباؤ بڑھا دیا ہے۔

کیف حکومت کا ہدف ہے کہ ہر ماہ تقریباً 35 ہزار روسی فوجیوں کو ہلاک یا زخمی کیا جائے۔ یوکرینی حکام کے مطابق رواں سال یہ ہدف حاصل کیا جا چکا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کریملن کو بڑے شہروں اور متوسط طبقے سے مزید فوجی بھرتی کرنے پر مجبور کیا جائے، جو سیاسی طور پر غیر مقبول قدم سمجھا جاتا ہے۔

برطانوی انٹیلی جنس ادارے جی سی ایچ کیو کے ایک حالیہ تخمینے کے مطابق روسی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

اس نئی جنگ نے نئے ہیرو بھی پیدا کیے ہیں۔ ان میں 22 سالہ ’گورا‘ شامل ہیں، جو خود کو محض سافٹ ویئر انجینئر کہنے کے بجائے ’ایمبیڈڈ ہارڈویئر اور سافٹ ویئر انجینئر‘ کہلانا پسند کرتی ہیں۔ جنگ شروع ہونے کے وقت وہ صرف 18 برس کی تھیں اور روسی ڈرون حملوں سے تنگ آ کر انہوں نے اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو جنگی محاذ کا حصہ بنا لیا۔

ان کا کہنا ہے کہ اصل طاقت گاڑیوں میں نہیں بلکہ ان ذہنوں میں ہے جو ان کے درمیان رابطہ، مواصلاتی نظام اور آپریشنل منصوبہ بندی کو ممکن بناتے ہیں۔

جنگی میدان میں مسلسل بدلتے چیلنجز

روبوٹس اور ڈرونز کی جنگ بھی مسلسل نئے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ بعض اوقات روسی الیکٹرانک وارفیئر نظام جی پی ایس سگنلز کو گمراہ کر دیتے ہیں، جس کے بعد آپریٹرز کو پہلے سے ریکارڈ شدہ ڈرون فوٹیج اور تفصیلی نقشوں کی مدد سے راستہ طے کرنا پڑتا ہے۔

ایک کارروائی میں دو روبوٹس درختوں کی ایک پٹی کے قریب پہنچے جہاں روسی مورچوں کی نشاندہی ہوئی تھی، اور چند لمحوں بعد زوردار دھماکوں نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ تاہم تمام مشن کامیاب نہیں ہوتے۔ ایک روبوٹ خندق میں الٹ گیا جبکہ دوسرا روسی فوج نے تباہ کر دیا۔

محاذ پر روبوٹس اب پیادہ فوج کے بنیادی فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ یوکرینی انجینئر بھاری براؤننگ مشین گنوں کو ٹینک نما ٹریکس پر نصب کر رہے ہیں۔ کیمروں سے لیس یہ مشینیں کئی دن تک جھاڑیوں میں چھپی رہ سکتی ہیں۔ انہیں نہ خوراک کی ضرورت ہوتی ہے، نہ پانی کی اور نہ ہی تھکن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صرف گولہ بارود ختم ہونے پر انہیں واپس لانا پڑتا ہے۔

ایک فوجی اہلکار ’سائبر‘ کے مطابق جب پہلی مرتبہ ایسے روبوٹ دشمن کے خلاف استعمال کیے گئے تو روسی فوجی گھبراہٹ کا شکار ہو گئے اور انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ردعمل کیسے دیا جائے۔

رسد کی ترسیل بھی روبوٹس کے سپرد

یوکرین نے زخمیوں کو نکالنے اور اگلے مورچوں تک رسد پہنچانے کے لیے بھی روبوٹک نظام متعارف کروا دیا ہے۔ روسی ڈرون حملوں کے مسلسل خطرے کے باعث رسد سے بھرے روبوٹس کو لوڈ کرنا بھی ایک خطرناک کام بن چکا ہے۔

دروژکیوکا کے قریب ایک فارم ہاؤس میں گولہ بارود کے پانچ ڈبے ایک روبوٹ پر لادے گئے۔ چند لمحوں بعد وہ دور بیٹھے آپریٹر کے کنٹرول میں آیا اور دیہاتی راستے پر اپنی دس گھنٹے طویل سفر کا آغاز کرتے ہوئے محاذ کی جانب روانہ ہو گیا۔

ایک سال تک محاذ پر ڈٹے رہنے والے سپاہی

اگرچہ ٹیکنالوجی نے جنگ کا رخ تبدیل کر دیا ہے، لیکن محاذ پر موجود یوکرینی فوجیوں کی مشکلات کم نہیں ہوئیں۔

24ویں میکانائزڈ بریگیڈ کے دو فوجی، جن کے کوڈ نام ’کرو‘ اور ’کریپی‘ ہیں، بالترتیب 344 اور 334 دن مسلسل اگلے مورچوں میں گزارنے کے بعد واپس آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے روبوٹس کو کھا کر طاقت بڑھانے والا نیا روبوٹ، کہیں اس کا اگلا شکار انسان تو نہیں؟

’کرو‘ کے مطابق انہیں زندہ رکھنے والی واحد چیز ان کی بیوی اور بچے تھے، ورنہ وہ ذہنی طور پر ٹوٹ چکے ہوتے۔ وہ تقریباً ایک سال بعد گھر جا رہے ہیں، تاہم اپنے نو سالہ بیٹے کی سالگرہ ایک دن سے کھو بیٹھیں گے۔ اس عرصے میں وہ اپنی اہلیہ سے براہِ راست گفتگو بھی نہیں کر سکے اور صرف ریڈیو پیغامات کے ذریعے رابطہ رکھتے تھے۔

دوسری جانب ’کریپی‘ کا کہنا ہے کہ شدید ڈرون حملوں کے دوران دفاعی مورچے تعمیر کرنے کے لیے مٹی سے بھرے تھیلے بھی کم پڑ گئے تھے اور جان بچانے کے لیے جو چیز ہاتھ آئی، اسی کو ڈھال بنا لیا گیا۔

جب دونوں فوجی تقریباً ایک سال بعد پہلی مرتبہ ٹھنڈا مشروب پیتے ہوئے صاف کپڑوں کی خواہش کا اظہار کر رہے تھے، اسی دوران کراماتورسک کے آسمان پر ایک اور ڈرون کی آواز گونجی اور مقامی لوگ فوراً محفوظ مقامات کی جانب بھاگنے لگے۔

یوکرین کی جنگ میں اب مشینیں ہر جگہ موجود ہیں، اور یہی مشینیں اس جنگ کی نوعیت، رفتار اور مستقبل کو ازسرِنو تشکیل دے رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2028 کی میزبانی پاکستان کو مل گئی

لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

طالبان کے مکس سگنلز پر اعتبار کرنا خطرناک ہوگا، وزیر دفاع خواجہ آصف

یوٹیوبر عادل راجا کا گھناؤنا چہرہ پھر بے نقاب، اسرائیلی اخبار کو پاکستان مخالف انٹرویو دے ڈالا

پاکستانی طلبہ کے لیے بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں اسکالرشپس کا اعلان

ویڈیو

ایم پی ایز نے بغاوت کردی، کیا سہیل آفریدی کی کرسی خطرے میں ہے؟

بھارت ایک بار پھر شوق پورا کرلے، افواج پاکستان جواب دینے کے لیے تیار ہیں، وزیر دفاع کا بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکی پر ردعمل

یورپی یونین نے پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کردی، مذاکرات بہترین راستہ قرار

کالم / تجزیہ

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی

گجرات کی گلیاں انور مسعود کو یاد کرتی ہیں

کوئٹہ سے تل ابیب تک