علیمہ خان وراثت سنبھالنا چاہتی ہیں لیکن ہاتھ کچھ نہیں آئے گا، شیر افضل مروت

پیر 1 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پی ٹی آئی کے سابق سینئر نائب صدر اور سابق ترجمان شیر افضل مروت نے پارٹی کی موجودہ حکمتِ عملی، تنظیمی ڈھانچے اور قیادت کے فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اندرونی اختلافات، غیر مؤثر تنظیمی فیصلوں اور کمزور سیاسی حکمتِ عملی کے باعث کمزور ہو چکی ہے۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کا عمل محدود ہو گیا ہے، جس کے باعث سیاسی جدوجہد اور احتجاجی سیاست متاثر ہوئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض غیر منتخب افراد کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے جماعتی معاملات پر منفی اثر ڈالا۔

مزید پڑھیں: ’اندازہ نہیں تھا ان کا ظرف اتنا چھوٹا ہے‘، شیر افضل مروت کا سہیل آفریدی سے دوبارہ ہاتھ نہ ملانے کا اعلان

شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی اس حد تک کمزور ہو چکی ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کے دوران مؤثر سیاسی مہم چلانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق، پارٹی قیادت کو خیبرپختونخوا سمیت دیگر علاقوں سے کارکنوں کو متحرک کر کے ایک بھرپور انتخابی مہم چلانی چاہیے تھی۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے انتخابات اور بعض رہنماؤں کو درپیش رکاوٹوں کو بھی پارٹی کی کمزور تنظیمی صورتحال کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ جماعت کو زمینی سطح پر زیادہ مؤثر سیاسی سرگرمیوں کی ضرورت ہے، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹ زمینی رابطے ہونے کے باوجود قیادت کے نہ پہنچنے پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

شیر افضل مروت نے پارٹی رہنماؤں کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمتِ عملی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول، گزشتہ دو برسوں میں پارٹی کو منظم اور متحرک رکھنے کے بجائے داخلی اختلافات اور ناقص فیصلوں نے نقصان پہنچایا، عوام، کارکنان، عمران خان اور ملک کے دو سال ضائع کیے گئے، تین مرتبہ عمران خان کی رہائی کا موقع ملا لیکن وہ گواں دیا گیا۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان وراثت سنبھالنے کے چکر میں ہیں لیکن پارٹی رہے گی بھی تو ان کے ہاتھ میں کیا آئے گا۔

مزید پڑھیں: بہنوں کے ہوتے ہوئے عمران خان جیل سے باہر نہیں آ سکتے، شیر افضل مروت

شیر افضل مروت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے مختلف مواقع پر پارٹی کو منظم احتجاجی ڈھانچہ دینے کی کوشش کی، تاہم ان کی تجاویز پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی کو متحد، متحرک اور منظم کرنا مقصود ہو تو تنظیمی سطح پر فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔

سابق پی ٹی آئی رہنما نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ جماعت کی موجودہ صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی روایت کو فروغ دیں تاکہ پارٹی کو دوبارہ مؤثر سیاسی قوت بنایا جا سکے۔

کارکنوں کے نام اپنے تفصیلی پیغام میں شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات کے بعد پارٹی آہستہ آہستہ ایسے افراد کے اثر و رسوخ میں چلی گئی جو بقول ان کے نہ عوام کے سامنے جوابدہ تھے اور نہ عملی سیاسی جدوجہد میں موجود تھے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اختلافِ رائے کو غداری تصور کیا گیا، سوال اٹھانے والوں کو سازشی قرار دیا گیا اور پالیسی اختلاف رکھنے والوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی۔

شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ 28 فروری 2024 کے بعد پارٹی معاملات پر عمران خان کی بہن علیمہ خان اور بیرون ملک مقیم بعض یوٹیوبرز کا اثر و رسوخ بڑھا، جس کے نتیجے میں فیصلہ سازی محدود ہو گئی اور اختلافی آوازوں کو دبایا جانے لگا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ حکمتِ عملی درست تھی تو پارٹی زیادہ مضبوط کیوں نہ ہو سکی اور احتجاجی سیاست مؤثر کیوں نہ رہی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابات کے صرف 17 روز بعد انہیں فوکل پرسن اور ترجمان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، بعد ازاں پارٹی سے نکالا گیا، پھر سینئر نائب صدر کے عہدے سے ہٹایا گیا اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے لیے ان کی نامزدگی واپس لے لی گئی۔ مروت کے مطابق، ان کے خلاف کوئی شوکاز نوٹس، انکوائری یا قابلِ ذکر ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں:عید کے روز پلاؤ پہ حلوہ ڈال کے کھانا پسند ہے، شیر افضل مروت

شیر افضل مروت نے کہا کہ بعد میں عمران خان سے ملاقات کے دوران ان کے بقول سابق فیصلے واپس لیے گئے اور بعض معاملات پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا، تاہم اس کے باوجود انہیں سیاسی اور کور کمیٹی سے الگ کر دیا گیا اور ان کے خلاف سوشل میڈیا و یوٹیوبرز کے ذریعے کردار کشی کی مہم چلائی گئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اسلام آباد میں احتجاجی سرگرمیوں، جلسوں اور جلوسوں کی قیادت کر رہے تھے لیکن بعد میں انہیں دور دراز علاقوں میں بھیج دیا گیا، جبکہ دارالحکومت میں قیادت دوسروں کے سپرد کر دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران بھی وہ پارٹی اور عمران خان کے حق میں آواز بلند کرتے رہے۔

شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ اکتوبر 2024 میں عمران خان نے احتجاجی تحریک منظم کرنے کے لیے ایک پروٹیسٹ کمیٹی قائم کرنے اور انہیں اس کی سربراہی دینے کا فیصلہ کیا، تاہم دو روز بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ ان کے مطابق، بعض افراد نے عمران خان کو یہ تاثر دیا کہ احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے سے ان کی ذاتی مقبولیت میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نومبر 2024 عمران خان سے ان کی آخری ملاقات تھی، جبکہ فروری 2025 میں انہیں دوبارہ پارٹی سے نکال دیا گیا، جس کے بعد ان کے خلاف مسلسل بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی گئی۔

مزید پڑھیں: جیل کے باہر نعرے لگانے والے خود نہیں چاہتے عمران خان سے ملاقات ہو، شیر افضل مروت

شیر افضل مروت نے کارکنوں کے نام اپنی اپیل میں کہا کہ اگر وہ واقعی جماعت کو متحد، متحرک، منظم اور قید رہنماؤں کی رہائی کے لیے مؤثر عوامی تحریک چلانا چاہتے ہیں تو انہیں صرف تین ماہ کے لیے جماعت کی تنظیمی کمان دی جائے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر انہیں یہ ذمہ داری دی گئی تو وہ جماعت کو دوبارہ منظم، متحد اور فعال کر کے دکھا سکتے ہیں اور قید رہنماؤں کی رہائی کے لیے ’’حقیقی عوامی تحریک‘‘ کھڑی کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مدت کے بعد وہ مستقل طور پر جماعت سے علیحدہ ہو جائیں گے کیونکہ بقول ان کے وہ موجودہ ماحول، کردار کشی، سازشوں، جھوٹ، بہتان، یوٹیوبر کلچر اور اندرونی اختلافات سے شدید نالاں ہیں۔

شیر افضل مروت نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پارٹی کی صورتحال کا ’’غیر جانبدارانہ جائزہ‘‘ لیں، اختلافِ رائے کو غداری سمجھنے کی روش ترک کریں اور تنظیم، مشاورت، برداشت اور مؤثر حکمتِ عملی کو فروغ دیں، بصورت دیگر آئندہ چند ماہ جماعت کے لیے مزید مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp