یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالس نے کہا ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے، تاہم علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات ہی بہترین راستہ ہیں۔
اسلام آباد میں پاک یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے 8ویں دور کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے کایا کالس نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی سنگین نتائج اور خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین کا پاکستان کے لیے 173 ملین ڈالر قرض کا اعلان
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نے مسلسل دونوں ممالک پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں کمی لانے پر زور دیا، کیونکہ موجودہ حالات میں فضائی حملوں کے بجائے مذاکرات ہی مسائل کا مؤثر حل ہیں۔
کایا کالس نے کہا کہ اسٹریٹجک مذاکرات کے دوران مختلف اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے اسلام آباد میں پرتپاک استقبال پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعاون مزید فروغ پائے گا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ اسلام آباد کی ثالثی کی کوششیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران تنازع نے دنیا کو توانائی کے سنگین بحران سے دوچار کیا، جس کے باعث پائیدار جنگ بندی اور سفارتی عمل کے تسلسل کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Muhammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 welcomed EU HR/VP Ms. Kaja Kallas @kajakallas, at the Ministry of Foreign Affairs today.
The two leaders will co-chair the 8th Pakistan-EU Strategic Dialogue, reflecting the shared commitment to… pic.twitter.com/pPJpZd64we
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 1, 2026
کایا کالس نے کہا کہ 2026 کے لیے بنیادی ہدف پاک یورپی یونین تعلقات کو مزید مضبوط اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری تجارت اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے بھی اہم ہے۔
ان کے مطابق پاکستان اور یورپی یونین علاقائی اور عالمی استحکام کے حوالے سے مشترکہ ترجیحات رکھتے ہیں، جبکہ پاکستان خطے کی ایک بڑی طاقت اور یورپی یونین کا اہم شراکت دار ہے۔
مزید پڑھیں: علاقائی صورتحال پر پاکستان اور یورپی یونین کا رابطہ، امن کے لیے سفارتی کوششوں پر اتفاق
اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یورپی یونین کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ یورپی قیادت اور کایا کالس کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطہ قابلِ ستائش ہے، خصوصاً پاک بھارت کشیدگی اور امریکہ-ایران تنازع کے دوران دونوں فریق قریبی رابطے میں رہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور یورپی رہنماؤں کے درمیان روابط نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین اسٹریٹجک وژن طویل المدتی شراکت داری کو نئی سمت دے سکتا ہے، جبکہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا تسلسل دونوں فریقوں کے درمیان متحرک اور مستقبل پر مبنی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے حالیہ دور سے مثبت اور بامعنی نتائج برآمد ہوں گے اور دونوں جانب تعاون کے نئے شعبوں کی تلاش اور مشترکہ مفادات کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔
مزید پڑھیں: یورپی یونین جوائنٹ کمیشن کا اجلاس، جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کی پیشرفت کا اعتراف
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ یورپی یونین کے کسی اعلیٰ خارجہ پالیسی عہدیدار کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ 7 برس بعد ہو رہا ہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ اسٹریٹجک مذاکرات کے دوران سکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور افغانستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے عناصر کی موجودگی سے متعلق امور پر بھی بات چیت کی گئی۔ انہوں نے امریکا ایران بحران کے دوران تعاون پر یورپی یونین کا شکریہ بھی ادا کیا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کا آغاز، تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع روشن
پاک-یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا یہ 8واں دور سکیورٹی، علاقائی صورتحال، تجارت، اقتصادی تعاون اور کثیرالجہتی روابط سمیت مختلف شعبوں پر مرکوز ہے۔
قبل ازیں کایا کالس کا وزارتِ خارجہ میں استقبال کیا گیا، اپنے دورۂ پاکستان کے دوران وہ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقاتیں کریں گی۔ وہ مختلف تھنک ٹینکس اور جامعات کے نمائندوں سے بھی تبادلہ خیال کریں گی۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اور یورپی یونین تجارت، ترقی، موسمیاتی تبدیلی، ہجرت اور علاقائی استحکام سمیت مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یورپی یونین پاکستان کی دوسری بڑی تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری یا کم ڈیوٹی کے ساتھ رسائی حاصل ہے۔
پاکستان کو یکم جنوری 2014ء کو 27 بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق اور ان پر عملدرآمد کے عزم کے بعد جی ایس پی پلس کا درجہ دیا گیا تھا۔
اس پروگرام کے تحت 2014 سے 2022 کے دوران یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات میں 108 فیصد جبکہ درآمدات میں 65 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دوطرفہ تجارتی حجم 2013ء کے 8.3 ارب یورو سے بڑھ کر 14.85 ارب یورو تک پہنچ گیا۔
پاکستان کی گارمنٹس، بیڈ لینن، ٹیری ٹاولز، ہوزری، چمڑے، کھیلوں اور جراحی آلات سمیت متعدد مصنوعات جی ایس پی پلس کی رعایتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یورپی منڈیوں تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔













