یورپی یونین کا پاکستان کے لیے 173 ملین ڈالر قرض کا اعلان

بدھ 29 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپی یونین نے پاکستان کے لیے 173 ملین ڈالر کے قرض کی منظوری دے دی ہے، جس کا بڑا حصہ صوبہ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ مکانات کی تعمیرِ نو اور کراچی میں پانی کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر خرچ کیا جائے گا۔

یورپی یونین مشن برائے پاکستان کے مطابق یہ پیشرفت یورپی انویسٹمنٹ بینک کے بین الاقوامی ترقیاتی بازو ‘ای آئی بی گلوبل’ کی ایک دہائی کے بعد پاکستان میں واپسی کی علامت ہے۔ مجموعی رقم میں سے 108 ملین ڈالر سندھ میں مکانات کی تعمیر کے بڑے پروگرام کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جو 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والے تقریباً 21 لاکھ دیہی گھروں کی تعمیرِ نو کے لیے شروع کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کا آغاز، تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع روشن

 اسے دنیا کا سب سے بڑا جاری تعمیراتی منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے جس سے صوبے کے 40 فیصد دیہی گھرانوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

باقی ماندہ 65 ملین ڈالر کراچی میں پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوں گے، جس کے تحت کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن شہر کے مشرقی علاقوں گھارو اور پپری میں توانائی کی بچت کرنے والے دو نئے فلٹریشن پلانٹس تعمیر کرے گی۔ ان پلانٹس سے روزانہ تقریباً 30 کروڑ لیٹر صاف پانی فراہم کیا جائے گا جس سے قریباً 22 لاکھ شہری مستفید ہوں گے۔

 ان معاہدوں کا اعلان اسلام آباد میں منعقدہ ‘یورپی یونین-پاکستان بزنس فورم’ میں کیا گیا جہاں یورپی یونین کے حکام نے واضح کیا کہ یہ منصوبے ‘گلوبل گیٹ وے’ حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: علاقائی صورتحال پر پاکستان اور یورپی یونین کا رابطہ، امن کے لیے سفارتی کوششوں پر اتفاق

 یورپی انویسٹمنٹ بینک کی نائب صدر نکولا بیئر اور یورپی کمشنر جوزف سیکیلا نے اس شراکت داری کو لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لانے اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ سندھ میں مکانات کی تعمیرِ نو کے اس مشن میں ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک جیسے بڑے ادارے بھی حکومتِ سندھ کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp