ملائیشیا نے 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نئے اکاؤنٹس کے اندراج پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ملکی مواصلاتی ریگولیٹر کے مطابق یہ اقدام بچوں اور کم عمر صارفین کو آن لائن نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی، نئے سخت قوانین نافذ
جنوب مشرقی ایشیائی ملک ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو بچوں کی صحت اور سلامتی پر سوشل میڈیا کے اثرات کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر آن لائن پلیٹ فارمز تک رسائی کو منظم کرنے کے لیے نئے قوانین متعارف کرا رہے ہیں۔
ملائیشین کمیونیکیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن کے مطابق پیر سے فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نئے صارفین کی عمر کی تصدیق سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر کرنا ہوگی۔
#NSTTV Malaysia today began enforcing age verification requirements for the registration and opening of social media accounts as a proactive measure to protect children under the age of 16 from cyber threats.
Read more: https://t.co/CGHDSpWb3o pic.twitter.com/WfQ4VIgfNs
— New Straits Times (@NST_Online) June 1, 2026
ریگولیٹر نے خبردار کیا ہے کہ نئے ضوابط پر عمل درآمد میں ناکامی کی صورت میں سوشل میڈیا کمپنیوں پر تقریباً 25 لاکھ امریکی ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بچوں کو انٹرنیٹ یا جدید ٹیکنالوجی سے محروم کرنا نہیں بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داریوں میں اضافہ کرنا ہے تاکہ کم عمر افراد کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
مزید پڑھیں: یونان میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا امکان
اعلامیے کے مطابق موجودہ صارفین کی عمر کی تصدیق کا عمل بھی سوشل میڈیا کمپنیاں آئندہ چھ ماہ کے دوران مرحلہ وار مکمل کریں گی۔
ملائیشیا نے حالیہ برسوں میں نقصان دہ آن لائن مواد میں نمایاں اضافے کے بعد سوشل میڈیا کمپنیوں کی نگرانی سخت کر دی ہے۔
حکومت خاص طور پر ایسے مواد کے خلاف کارروائی کر رہی ہے جو نسلی یا مذہبی کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش کرتا ہو یا بادشاہت پر تنقید پر مبنی ہو۔














