بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی پر پاکستان میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، اور متنازع کشن گنگا ہائیڈرو پاور منصوبے کا معاملہ بھی اس کا باعث بن رہا ہے۔ کشن گنگا دریا کا پانی 24 کلومیٹر طویل سرنگ کے ذریعے دریائے جہلم کے طاس میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ بھارت مسلسل عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کررہا۔
کشن گنگا منصوبہ کیا ہے؟
کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک منصوبہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں واقع ہے۔ 330 میگاواٹ صلاحیت کا یہ منصوبہ دریائے جہلم کے معاون دریا کشن گنگا پر تعمیر کیا گیا ہے اور اس کا بنیادی مقصد پانی کو 24 کلومیٹر طویل سرنگ کے ذریعے جہلم بیسن میں قائم بجلی گھر تک پہنچانا ہے۔
مزید پڑھیں: کشن گنگا اور رتلے منصوبوں پر ثالثی عدالت کا ضمنی فیصلہ، پاکستان کا خیرمقدم
قریباً 864 ملین ڈالر کی لاگت سے مکمل کیے گئے اس منصوبے میں 37 میٹر بلند کنکریٹ فیس راک فل ڈیم تعمیر کیا گیا ہے، جبکہ بجلی کی پیداوار کے لیے 110 میگاواٹ صلاحیت کے 3 پیلٹن ٹربائن جنریٹر نصب ہیں۔
مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کا سوال
دسمبر 2013 میں مستقل ثالثی عدالت کے جاری کردہ حتمی فیصلے کے مطابق بھارت اس بات کا پابند ہے کہ وہ دریائے نیلم جہلم کے زیریں حصے میں کم از کم 9 کیوسک ماحولیاتی بہاؤ برقرار رکھے۔
تاہم بھارت مطلوبہ مقدار میں پانی کے بہاؤ کو یقینی بنانے میں ناکام رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اہم ہائیڈرولوجیکل معلومات اور آبی اعداد و شمار بھی فراہم نہیں کیے جا رہے، جو سندھ طاس معاہدے اور عدالت کے لازمی فیصلے کی خلاف ورزی تصور کی جا رہی ہے۔
پاکستان کے آبی نظام اور زرعی شعبے پر ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق عدالتی فیصلے کے تحت مقرر کردہ ماحولیاتی بہاؤ کو برقرار نہ رکھنے اور ضروری آبی معلومات کے تبادلے سے گریز کرنے کے باعث سندھ طاس معاہدے کا قواعد و ضوابط پر مبنی نظام متاثر ہو رہا ہے۔
اس صورتحال سے پاکستان میں پانی کے انتظام، زرعی منصوبہ بندی اور معاشی استحکام کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ زیریں علاقوں میں آبپاشی کے نظام کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سرحد پار آبی نظم و نسق کے لیے چیلنج
کشن گنگا منصوبے سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل نہ کرنا محض ایک تکنیکی یا قانونی تنازع نہیں بلکہ سرحد پار آبی وسائل کے انتظام کے نظام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔
اس کے نتیجے میں پاکستان کی آبپاشی پر انحصار کرنے والی زراعت، دیہی معیشت اور لاکھوں افراد کے روزگار پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ماحولیاتی نظام اور غذائی تحفظ کو خطرات
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر دریائے نیلم اور جہلم میں مطلوبہ ماحولیاتی بہاؤ برقرار نہ رکھا گیا تو اس سے دریا کے قدرتی ماحولیاتی نظام، آبی دستیابی اور زرعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال غذائی تحفظ، معاشی سرگرمیوں اور دریا پر انحصار کرنے والے علاقوں کی سماجی و اقتصادی پائیداری کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
شفافیت اور اعتماد کے فقدان پر تشویش
تجزیے کے مطابق اہم ہائیڈرولوجیکل معلومات پاکستان کے ساتھ شیئر نہ کرنے سے مشترکہ دریائی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کے اصول کمزور ہو رہے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بھی متاثر ہو رہی ہے۔
آبی معلومات تک بروقت رسائی نہ ہونے سے پاکستان کے لیے پانی کے وسائل کا مؤثر انتظام، فصلوں کی منصوبہ بندی اور مستقبل کی ضروریات کا درست اندازہ لگانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی بھارت کیخلاف اہم کامیابی، کشن گنگا ڈیم پر بھارتی مؤقف عالمی سطح پر مسترد
علاقائی استحکام پر دوررس اثرات
رپورٹ کے مطابق اگر بھارت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تقاضوں اور روح دونوں پر مکمل عمل درآمد نہیں کرتا تو مشترکہ آبی تعاون کا موجودہ نظام تزویراتی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں پاکستان کی زرعی پیداوار، غذائی تحفظ، اقتصادی ترقی اور خطے میں آبی استحکام پر طویل المدتی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔














