امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں قریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے، جس کی خبر سامنے آنے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹیکنالوجی کی اس بڑی کمپنی کا مقصد مچھروں کے ذریعے پھیلنے والے وائرسز کا خاتمہ کرنا ہے، جس کے لیے ایک منفرد قسم کے نر مچھروں کو چھوڑا جائے گا۔
فلوریڈا میں مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کا خطرہ
فلوریڈا میں مچھروں کی 80 سے زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں اور وہاں کا ماحول ان کی افزائش کے لیے انتہائی موزوں سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ریاست مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے زیادہ خطرے سے دوچار رہتی ہے۔
متصل امریکی ریاستوں میں مقامی سطح پر ڈینگی بخار کے سب سے زیادہ کیسز بھی فلوریڈا میں رپورٹ ہوتے ہیں۔
متنازع مگر اہم منصوبہ
اس منصوبے کی ذمہ دار ویریلی لائف سائنسز ایل ایل سی ہے، جسے مختصراً ویریلی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ الفابیٹ اِنکارپوریٹڈ کی تحقیقی تنظیم ہے جو حیاتیاتی علوم کے مطالعے کے لیے کام کرتی ہے۔
یہ منصوبہ اگرچہ انتہائی اہم اور بلند ہدف رکھتا ہے، تاہم ناقدین کی جانب سے اس پر مختلف خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔
جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مچھر کیسے کام کریں گے؟
رپورٹس کے مطابق چھوڑے جانے والے مچھر جینیاتی طور پر تبدیل شدہ ہوں گے۔ جب یہ مقامی مادہ مچھروں کے ساتھ افزائش نسل کریں گے تو پیدا ہونے والے انڈے نہیں پھوٹیں گے۔
ماہرین کے مطابق اس طریقہ کار سے علاقے میں مچھروں کی مجموعی تعداد میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چھوڑے جانے والے تمام مچھر نر ہوں گے جو انسانوں کو نہیں کاٹتے۔ ان کا مقصد حملہ آور نسل کی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے ذریعے آئندہ نسلوں کی افزائش کو محدود کرنا ہے۔
ماضی میں بھی ایسا تجربہ کیا جا چکا ہے
اس سے قبل 2017 میں کیلیفورنیا میں 10 لاکھ بانجھ مچھر چھوڑے گئے تھے اور اس منصوبے کو کامیاب قرار دیا گیا تھا۔
منصوبے پر تنقید اور خدشات
موجودہ منصوبہ، جسے ’ڈی بگ‘ کا نام دیا گیا ہے، انسانی اور ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے بھی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
ریاست ٹینیسی سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکنِ کانگریس ٹم برچیٹ نے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ گوگل کے پاس 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر کیوں ہیں؟ کیا ہم کُڈزو، چڑیوں، سیاہ پرندوں اور ایشیائی کارپ مچھلی کے تجربات سے کوئی سبق نہیں سیکھ سکے؟ کیا میں مزید مثالیں دوں؟
انہوں نے منصوبے کے ذمہ داران کو خبردار کرتے ہوئے کہاکہ فطرت کے نظام میں مداخلت سے گریز کیا جانا چاہیے۔
ویریلی کا مؤقف
ویریلی کی ویب سائٹ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ماحولیاتی نظام کو اس حالت میں واپس لانا ہے جو مچھروں کی حملہ آور اقسام کے پھیلاؤ سے پہلے موجود تھی۔














