بھارت میں نوجوانوں کی ایک نئی آن لائن تحریک نے مختصر عرصے میں غیرمعمولی مقبولیت حاصل کر لی ہے اور اب اس کے بانی نے اسے سوشل میڈیا سے نکال کر عملی احتجاجی تحریک میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھجیت دیپکے نے کہا ہے کہ وہ جلد بھارت واپس آ کر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے لیے دہلی میں احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔
امریکا میں مقیم دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ پرامن احتجاج میں شریک ہوں اور حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘، بھارتی چیف جسٹس کے ریمارکس پر سیاسی تحریک چل پڑی
ان کے مطابق تقریباً 8 لاکھ طلبہ وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر مبنی ایک آن لائن درخواست پر دستخط کر چکے ہیں۔
یہ تحریک خاص طور پر نوجوانوں میں بے روزگاری، مہنگائی، سیاسی مسائل اور تعلیمی نظام میں موجود خامیوں کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے۔
دیپکے نے حالیہ مہینوں میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے، تعلیمی امتحانات کے نتائج میں غلطیوں اور طلبہ کے مستقبل کو متاثر کرنے والے دیگر مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا ہے۔
TRENDING: 🇮🇳 A viral youth group in India known as the “Cockroach” group plans street protests, challenging PM Modi’s 12 year rule.
The group is protesting over unemployment, exam leaks and inflation. pic.twitter.com/2sLyMDBtmQ
— Global Markets (@globalmarketss) June 1, 2026
ان کا مؤقف ہے کہ ایسے واقعات لاکھوں طلبہ کے کیریئر کے لیے خطرہ بن رہے ہیں اور حکومت ان مسائل کے حل میں ناکام رہی ہے۔
سی جے پی نے چند ہی دنوں میں سوشل میڈیا پر کروڑوں افراد کی توجہ حاصل کر لی ہے، انسٹاگرام پر اس کے فالوورز کی تعداد 2 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جسے مودی حکومت کے خلاف نوجوانوں کے سب سے بڑے آن لائن احتجاجی اظہار میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
اس جماعت کا نام بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت کے ایک متنازع بیان سے لیا گیا ہے، جس میں انہوں نے بعض بے روزگار نوجوانوں کا موازنہ کاکروچ سے کیا تھا۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ
بعد ازاں انہوں نے وضاحت دی کہ ان کا اشارہ جعلی ڈگری رکھنے والوں کی طرف تھا، نہ کہ تمام نوجوانوں کی جانب۔
دوسری جانب بھارتی حکومت نے اس تحریک کے ایکس اکاؤنٹ کو بلاک کر دیا ہے، جبکہ دیپکے کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کو بھی ہیک کرنے کی کوشش کی۔
حکومت کے بعض وزرا نے اس تحریک پر بیرونی عناصر سے حمایت حاصل کرنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ تنازع شدت اختیار کر گیا، بی جے پی اور اپوزیشن آمنے سامنے
ادھر نوجوانوں میں بے روزگاری کا مسئلہ بدستور سنگین ہے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 29 سال عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح 9.9 فیصد ہے، جو مجموعی قومی شرح سے کئی گنا زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نوجوانوں کے مسائل حل نہ کیے گئے تو یہ تحریک مستقبل میں بھارتی سیاست پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتی ہے۔













