’کاکروچ جنتا پارٹی‘، بھارتی چیف جسٹس کے ریمارکس پر سیاسی تحریک چل پڑی

بدھ 20 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت کے نوجوانوں سے متعلق متنازع ریمارکس کے بعد ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے ایک طنزیہ سیاسی تحریک سامنے آگئی، جس نے چند روز میں لاکھوں نوجوانوں کی توجہ حاصل کرلی۔

مزید پڑھیں:اسرائیلی فوج کے لیے بھارتی اسٹیل کی ترسیل پر یورپی بندرگاہوں میں احتجاج

چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک عدالتی سماعت کے دوران کہا تھا کہ کچھ نوجوان ’کاکروچ‘ کی طرح ہیں، جنہیں روزگار نہیں ملتا، پھر وہ سماجی ذرائع ابلاغ، صحافت یا سرگرم کارکن بن کر نظام پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے وضاحت دی کہ ان کا اشارہ جعلی ڈگری رکھنے والے افراد کی جانب تھا، نہ کہ تمام نوجوانوں کی طرف۔

تاہم ان ریمارکس پر بالخصوص نوجوان نسل میں شدید ردعمل سامنے آیا، جہاں بے روزگاری، مہنگائی اور سماجی تقسیم پہلے ہی بڑے مسائل سمجھے جا رہے ہیں۔

اسی تناظر میں 30 سالہ ابھیجیت ڈپکے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا: ’اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو؟‘ بعد ازاں انہوں نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے ویب سائٹ اور سماجی ذرائع ابلاغ کے صفحات قائم کر دیے۔

رپورٹ کے مطابق 3 روز میں اس تحریک کے لاکھوں حمایتی سامنے آئے، جبکہ ہزاروں افراد نے رکنیت فارم بھی پُر کیے۔ اس طنزیہ جماعت کا منشور نوجوانوں کی بے روزگاری، حکومتی طرزِ سیاست، ذرائع ابلاغ کے کردار اور عدالتی تقرریوں جیسے معاملات پر طنزیہ انداز میں تنقید کرتا ہے۔

مزید پڑھیں:مودی کی مہم برائے کفایت شعاری الٹی پڑگئی، روپیہ گرگیا، مارکیٹ میں شدید مندی

ابھیجیت ڈپکے کا کہنا ہے کہ بھارت میں لوگ طویل عرصے سے خاموش تھے، مگر اب نوجوان سوال اٹھا رہے ہیں اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp