بھارت کی انتہائی جنوبی سرزمین گریٹ نکوبار جزیرہ ان دنوں ایک بڑے سیاسی اور ماحولیاتی تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے تقریباً 11 ارب ڈالر مالیت کے ایک وسیع ترقیاتی منصوبے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت جزیرے کو بحرِ ہند میں ایک اہم تجارتی اور اسٹریٹجک مرکز میں تبدیل کیا جائے گا۔
گریٹ نکوبار جزیرہ بھارتی سرزمین سے تقریباً 1600 کلومیٹر دور واقع ہے اور جغرافیائی طور پر تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے ساحلوں کے زیادہ قریب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا 9 ارب ڈالر میگا پورٹ منصوبہ: نایاب جزیرے پر مقامی آبادی، ثقافت اور ماحولیات شدید خطرے سے دوچار
یہ جزیرہ آبنائے ملاکا کے قریب واقع ہے، جو عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔
عالمی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ اور بحری راستے سے منتقل ہونے والا تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔
حکومت کے منصوبے میں ایک جدید ٹرانس شپمنٹ بندرگاہ، سول و عسکری ہوائی اڈہ، بجلی گھر، سیاحتی ڈھانچہ اور ساڑھے 3 لاکھ افراد پر مشتمل نیا شہر تعمیر کرنے کی تجویز شامل ہے۔
🇮🇳 🏝️ India set to invest billions in strategic, remote island
On Great Nicobar, bulldozers are tearing into forests home to one of Earth's most isolated people — part of India's ambition for a $9 billion megaport, airport and city. Designed to rival China's investments around… pic.twitter.com/tXo1EsuZuL
— AFP News Agency (@AFP) June 2, 2026
ابتدائی طور پر منصوبے کو اقتصادی ترقی اور بحری تجارت کے فروغ سے جوڑا گیا تھا، تاہم حالیہ مہینوں میں حکومت نے اس کے دفاعی اور اسٹریٹجک پہلوؤں پر زیادہ زور دینا شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب ماہرین ماحولیات، اپوزیشن جماعتوں اور مقامی آبادی نے اس منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت کی اسٹریٹجک خودمختاری اب پریشان خیالی میں بدل چکی، سابق سفارتکار مسعود خان
جزیرہ شومپن نامی نیم خانہ بدوش مقامی قبیلے اور نکوباری ماہی گیر برادری کا مسکن ہے، جن کی آبادی چند ہزار افراد پر مشتمل ہے۔
منصوبے کے لیے جزیرے کے تقریباً 16 فیصد رقبے کو استعمال کیا جائے گا، جس کا بڑا حصہ قبائلی محفوظ علاقوں پر مشتمل ہے۔

ماہرین کے مطابق منصوبے کے تحت تقریباً 9 لاکھ 64 ہزار درخت کاٹے جائیں گے، جس سے جزیرے کے نازک ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انسانی حقوق اور نسل کشی کے ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اس منصوبے سے شومپن قبیلے کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بھی منصوبے کو قدرتی اور قبائلی ورثے کے خلاف قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔
تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ قومی سلامتی، اقتصادی ترقی اور خطے میں بھارت کے اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔













