امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جبکہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بھی امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں شامل ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں ان کی مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا امکان موجود ہے۔
BREAKING: Trump says “ Iran has agreed to ABANDON its nuclear weapons program. ”
He also added that the Iran blockade could be lifted by Labor Day. pic.twitter.com/7zBYW3T2SQ
— Bull Theory (@BullTheoryio) June 3, 2026
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز ’پوڈ فورس ون‘ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایران پہلے ہی اس بات پر رضامندی ظاہر کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، ایران کی اعلیٰ قیادت امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کررہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہاکہ امکان ہے کہ وہ کسی مرحلے پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے لبنان کے معاملے پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ اختلافات کا بھی اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ لبنان میں اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیوں پر وہ خوش نہیں تھے اور اس حوالے سے ان کی نیتن یاہو کے ساتھ سخت گفتگو بھی ہوئی۔
ٹرمپ نے کہا کہ میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں غصے میں تھا، لیکن لبنان کے ساتھ مسلسل لڑائی پر مجھے تشویش ضرور تھی۔” تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے کے باوجود ان کے اور اسرائیلی وزیراعظم کے تعلقات بدستور اچھے ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔

امریکی صدر کے ان بیانات کو ایران کے جوہری پروگرام، امریکا-ایران مذاکرات اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی کے امکانات پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔













