امریکا اور ایران کے درمیان زیرِ غور ممکنہ معاہدے نے اسرائیلی سیاسی و سیکیورٹی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پا گیا تو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ایران کے خلاف سخت گیر پالیسی اور سیاسی ورثے کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔
سی این این کے مطابق چند ماہ قبل ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات اپنی مضبوط ترین سطح پر دکھائی دے رہے تھے، تاہم اب صورتحال یکسر مختلف نظر آ رہی ہے۔ امریکا جنگی راستے کے بجائے سفارتی حل کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ نیتن یاہو خود کو مذاکراتی عمل سے بڑی حد تک الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں۔
Emerging Iran deal risks shattering Netanyahu’s legacy. By @talshalev1
“Israelis were so invested in regime change in Iran that they did not fully comprehend the war could lead to a regime change in DC,” the source said. https://t.co/kru9BwyVbK
— Abbas Al Lawati (@allawati) May 29, 2026
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی قیادت کو خدشہ ہے کہ مجوزہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم کے ذخائر، بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کے اثرورسوخ جیسے بنیادی سیکیورٹی خدشات کو مؤثر انداز میں حل نہیں کر سکے گا۔ اسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ اگر ایران پر عائد معاشی دباؤ میں کمی آتی ہے تو تہران کو مالی اور سیاسی طور پر نئی قوت مل سکتی ہے۔

سی این این کے مطابق نیتن یاہو نے جنگ بندی کے بعد بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران کے خلاف دباؤ برقرار رکھنے اور فوجی کارروائیوں میں شدت لانے کے لیے زور دیا، تاہم وائٹ ہاؤس نے سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہوئے مذاکراتی راستہ اختیار کیا۔ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ تل ابیب کو اب امریکی ایرانی مذاکرات کے نتائج پر اثرانداز ہونے کی محدود صلاحیت حاصل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو خاص طور پر اس بات پر تشویش ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی تو ایران کی معیشت کو بڑا سہارا ملے گا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس سے تہران کو خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران معاملے پر ٹرمپ اور نیتن یاہو میں اختلافات شدت اختیار کرگئے
لبنان بھی اس معاملے کا ایک اہم پہلو بن گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں لبنان میں جنگ بندی کا معاملہ بھی شامل ہو، جبکہ اسرائیل حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں آپریشنز میں مزید وسعت دی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو اس وقت ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ ایک طرف وہ مجوزہ معاہدے پر اپنے تحفظات رکھتے ہیں، دوسری جانب وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2015 کے ایران جوہری معاہدے کے برعکس اس بار اسرائیلی قیادت کی جانب سے کھلی اور جارحانہ مخالفت سامنے نہیں آ رہی۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کے قریبی سیاسی حلقے معاہدے کی ممکنہ خامیوں کا ذمہ دار امریکی مذاکراتی ٹیم کو قرار دے رہے ہیں، تاہم واشنگٹن کے نزدیک اسرائیلی قیادت امریکی پالیسی کے نئے رخ کو درست طور پر سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کوئی قابلِ عمل معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی بلکہ نیتن یاہو کی کئی دہائیوں پر محیط ایران مخالف حکمتِ عملی کے لیے بھی ایک اہم آزمائش ثابت ہو سکتی ہے۔













