آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی (اے سی پی کے) کے فلیگ شپ ’ورلڈ کلچر فیسٹیول‘ کے تیسرے ایڈیشن کی تیاریاں باقاعدہ طور پر شروع کردی گئی ہیں، جس کے تحت منتظمین نے فیسٹیول کے فلمی حصے کے لیے دنیا بھر سے فلم سازوں کو اپنی دستاویزی، بیانیہ اور شارٹ فلمیں جمع کروانے کی باضابطہ دعوت دے دی ہے۔
آرٹس کونسل اور اس کے صدر احمد شاہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک مشترکہ اعلان کے مطابق، دنیا بھر کے تخلیق کار اپنی فلمیں ’فلم فری وے‘ کے ذریعے آن لائن جمع کروا سکتے ہیں تاکہ انہیں اس عالمی میلے میں نمائش کے لیے منتخب کیا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 35 روزہ ورلڈ کلچر فیسٹیول کا آغاز، کیا کچھ دیکھنے کو ملے گا؟
رواں سال یہ عالمی ثقافتی میلہ 29 اکتوبر سے 22 نومبر تک آرٹس کونسل کراچی میں سجایا جائے گا، جس میں 140 سے زائد ممالک کے ایک ہزار سے زیادہ بین الاقوامی اور مقامی فنکاروں کی شرکت متوقع ہے۔
یہ فیسٹیول اپنے پچھلے دو ایڈیشنز کی طرح محض فلموں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس 25 روزہ میلے میں تھیٹر، لائیو میوزک، روایتی و جدید رقص اور بصری فنون (ویژول آرٹس) کے شاندار مظاہرے، نمائشیں اور خصوصی ورکشاپس بھی منعقد کی جائیں گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال منعقد ہونے والا دوسرا ایڈیشن 30 اکتوبر سے 7 دسمبر تک مجموعی طور پر 37 دنوں تک جاری رہا تھا، جس میں 102 ممالک کے 800 سے زائد فنکاروں نے کراچی آ کر اپنے فن کا جادو جگایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ کلچر فیسٹیول میں شرکت کے لیے پہلی بار سعودی فنکاروں کی پاکستان آمد
گزشتہ ایڈیشن کی فلمی لائن اپ میں پاکستان کی معروف فلمیں ’دختر‘ اور ’دی گلاس ورکر‘ سمیت اسپین کی ’لوس ٹیگریس‘، پولینڈ کی ’ہوم‘ اور اٹلی کی ’پیپر ہارٹ‘ جیسی عالمی فلمیں شامل تھیں، جبکہ گرینڈ ویکلی کنسرٹس اور ڈانس نائٹس اس میلے کا بنیادی مرکز رہے تھے۔
اب نئے ایڈیشن کو پہلے سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر پیش کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔














