پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب، ایک سال میں کتنے افراد بینکنگ نظام کا حصہ بنے، حیران کن اعدادوشمار

بدھ 3 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے مالیاتی اور بینکنگ نظام نے سال 2025 کے دوران ایک تاریخی سنگِ میل عبور کیا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں 6.8 ملین (68 لاکھ) سے زیادہ نئے منفرد بینک اکاؤنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری کردہ ’نیشنل فنانشل انکلوژن اسٹریٹجی‘2024-2028 کی پہلی سالانہ پیش رفت رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان نئے اکاؤنٹ ہولڈرز میں خواتین کا حصہ سب سے زیادہ یعنی 55 فیصد رہا، جو ملک میں خواتین کی معاشی خودمختاری کی واضح علامت ہے۔

مالیاتی شمولیت میں اضافہ اور صنفی فرق میں ریکارڈ کمی

مرکزی بینک کے مطابق اس نئی حکمتِ عملی کے نفاذ کے پہلے ہی سال تمام سالانہ بنیادی اہداف کو کامیابی سے حاصل کر لیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کی مجموعی مالیاتی شمولیت  کی شرح بڑھ کر 69 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، بینکنگ اور مالیاتی رسائی میں مردوں اور عورتوں کے درمیان پایا جانے والا روایتی صنفی فرق بھی 29 فیصد تک کم ہو گیا ہے، جو کہ ایک غیر معمولی معاشی پیشرفت ہے۔

’راست‘ پی ٹو ایم اور ڈیجیٹل فنانس کا فروغ

اکاؤنٹس کی ملکیت میں یہ مضبوط اور تیز رفتار اضافہ پاکستان کی ڈیجیٹل فنانس اور باقاعدہ بینکنگ خدمات کی طرف وسیع تر منتقلی کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:قول و فعل میں تضاد: بینکنگ نظام پر تنقید کرنے والی ٹی ایل پی کا اکاؤنٹس سے منافع حاصل کرنے کا انکشاف

رپورٹ کے مطابق رواں سال کا سب سے بڑا سنگِ میل ملک گیر سطح پر ’راست پرسن ٹو مرچنٹ‘ادائیگیوں کا کامیاب آغاز تھا۔ اس جدید نظام کی بدولت ملک کے 2 ملین (20 لاکھ) سے زیادہ چھوٹے اور بڑے تاجروں کو ’کیو آر کوڈز‘کے ذریعے فوری ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے کے قابل بنایا گیا ہے، جس سے نقد رقم پر انحصار کم ہوا ہے۔

ضلعی ڈیش بورڈز کا قیام اورعالمی سطح پر پاکستان کا اعزاز

پاکستان نے اپنے مالیاتی بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے ضلع کی سطح پر خصوصی ڈیش بورڈز متعارف کرائے ہیں۔

یہ ڈیش بورڈز بینکنگ رسائی، شہریوں کے ڈپازٹس، فنانسنگ اور دیگر اہم معاشی اشاریوں کو باریک بینی سے ٹریک کرتے ہیں۔ اس جدید اقدام کے بعد پاکستان اب دنیا کے ان گنے چنے اور نسبتاً چھوٹے ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو مالی شمولیت کا اتنا تفصیلی اور شفاف ڈیٹا عوامی سطح پر شائع کرتے ہیں۔

کسانوں کے لیے ’زرخیز آسان ڈیجیٹل قرضے‘ کا تحفہ

زرعی شعبے میں ہونے والی ایک اور بڑی ڈیجیٹل پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ ملک کے پہلے مکمل ڈیجیٹل زرعی قرضہ دینے والے پلیٹ فارم ’زرخیز آسان ڈیجیٹل قرضے‘ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:بینکنگ ایس ایم ایس الرٹس مہنگے کیوں؟ ٹیلی کام سیکٹر نے وجہ بتا دی

اس پلیٹ فارم نے اب تک 21 کمرشل بینکوں اور تقریباً 10,000 تاجروں و فروشوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، جبکہ 22,000 سے زیادہ کاشتکار اس پر رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت اب تک کسانوں کے لیے 1.9 ارب روپے کی مالی معاونت (قرضوں) کی منظوری دی جا چکی ہے۔

کم لاگت ہاؤسنگ فنانس اور مستقبل کا لائحہ عمل

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے غریب اور محروم طبقات کو اپنے گھر کی چھت فراہم کرنے کے لیے ایک ’ڈیجیٹل اسکور کارڈ ماڈل‘ بھی متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد کم لاگت ہاؤسنگ فنانس کو آسان بنانا اور قرض تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیشنل فنانشل انکلوژن اسٹریٹجی کے تحت طے کیے گئے 52 اقدامات میں سے 10 مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ باقی پر کام شیڈول کے مطابق جاری ہے۔

آگے بڑھتے ہوئے، اسٹیٹ بینک کا منصوبہ ہے کہ ایجنٹ انٹرآپریبلٹی کو بڑھایا جائے، ملک میں جدید ’ڈیجیٹل ماڈل ولیجز‘متعارف کرائے جائیں اور برانچ لائسنسنگ کے قواعد میں نرمی کی جائے تاکہ مزید عام افراد اور چھوٹے کاروباروں کو رسمی معاشی نظام کے دائرے میں لایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے