طبی ماہرین نے ذیابیطس کو ایک ایسے ’خاموش قاتل‘ سے تعبیر کیا ہے جس کی ابتدائی علامات کو عام طور پر لوگ نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ وقت پر ان کی پہچان سنگین پیچیدگیوں سے بچانے اور بروقت علاج شروع کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
ٹائپ ٹو ذیابیطس جسم میں بہت آہستہ آہستہ جڑ پکڑتی ہے، اس لیے اس کی چند بنیادی اور ابتدائی علامات کو سمجھنا ہر شہری کے لیے بے حد ضروری ہے۔
بار بار پیشاب آنا اور پیاس لگنا
ذیابیطس کی سب سے نمایاں اور ابتدائی علامت رات کے وقت بار بار پیشاب آنا اور اس کے ساتھ ہی شدید پیاس کا احساس ہونا ہے، یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم خون میں موجود اضافی گلوکوز کو پیشاب کے ذریعے باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے جس سے جسم میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے۔
مستقل تھکن اور کمزوری
اسی طرح اگر مناسب خوراک کے باوجود آپ خود کو مستقل تھکن اور کمزوری کا شکار محسوس کرتے ہیں، تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آپ کا جسم توانائی کے لیے گلوکوز کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کر پارہا۔
بھوک کا احساس اور دھندلی بینائی
طبی ماہرین کے مطابق بعض مریضوں کو کھانا کھانے کے فوری بعد بھی مسلسل بھوک کا احساس ہوتا ہے کیونکہ ان کے خلیات کو مطلوبہ توانائی نہیں مل پاتی، جبکہ خون میں شوگر کی مقدار بڑھنے سے آنکھوں کے سیال مادوں پر اثر پڑتا ہے جو عارضی طور پر بینائی کے دھندلے پن کا سبب بنتا ہے۔
زخموں کا دیر سے بھرنا اور وزن میں کمی
اس کے علاوہ جسم پر لگنے والے معمولی کٹس یا زخموں کا دیر سے بھرنا، بار بار انفیکشن ہونا اور بغیر کسی وجہ کے وزن میں تیزی سے کمی آنا بھی انسولین کی خرابی کی واضح نشانیاں ہیں کیونکہ ایسی صورت میں جسم توانائی حاصل کرنے کے لیے پٹھوں اور چربی کو پگھلانا شروع کردیتا ہے۔














