مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں بظاہر بالکل اچانک ایک نیا اور دھماکا خیز موڑ آگیا ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے وائٹ ہاؤس کے تین اعلی سطحی ذرائع کے حوالے سے خبر بریک کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے مابین ٹیلیفون کال کے دوران جھڑپ ہوئی ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو گالیوں سے نوازتے ہوئے یاد دلایا ہے۔
’اگر میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے۔ ساری دنیا تم سے نفرت کرتی ہے، اور تمہاری ہی وجہ سے اب پوری دنیا اسرائیل سے بھی نفرت کرتی ہے، اس ساری صورتحال کے ذمہ دار تم ہو۔‘
خبر اگرچہ ذرائع کے حوالے سے ہے مگر اس کے درست ہونے کی دو ٹھوس وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ ایگزیوس ٹرمپ انتظامیہ کی سپر فیوریٹ نیوز ویب سائٹ ہے۔ دوسری یہ کہ وائٹ ہاؤس نے اس خبر کی تردید نہیں کی۔ ایگزیوس نے جھڑپ کی وجہ لبنان پر اسرائیل کی مسلسل جارحیت بتائی ہے، مگر بات اتنی سادہ ہے نہیں۔ سی آئی اے اور پینٹاگون کے سابق اعلیٰ افسر دعوی کررہے ہیں کہ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کو ایران کا یہ پیغام پہنچایا ہے کہ پاکستان کی مدد سے طے پانے والے مجوزہ میمورینڈم میں یہ بات صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ سیز فائر میں لبنان اور فلسطینی بھی شامل ہوں گے، لیکن اسرائیل اس کی پاسداری نہیں کر رہا۔ اگر 24 گھنٹے کے اندر اندر یہ صورتحال تبدیل نہ ہوئی تو ہم دو اقدامات کریں گے۔
پہلا یہ کہ ہم مذاکرات کے عمل سے نکل جائیں گے اور آبنائے ہرمز ہی نہیں بلکہ بحیرہ احمر پر واقع باب المندب کو بھی مکمل بند کردیں گے۔ ایران کا دوسرا اقدام یہ ہوگا کہ وہ این پی ٹی سے نکل جائے گا۔ بات صرف یہیں تک نہیں بلکہ پاسداران انقلاب کے ایک ترجمان نے شمالی اسرائیل کے شہریوں کو وارننگ جاری کی ہے کہ وہ بلا تاخیر یہ علاقہ خالی کردیں، ایران اسے ہٹ کرنے جا رہا ہے۔
ایران کی جانب سے یہ تین وارننگز ایسے موقع پر سامنے آئی ہیں جب چند ہی گھنٹے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی بہو لارا ٹرمپ کو انٹرویو دیتے ہوئے بڑی رعونت کے ساتھ کہا تھا۔
’ایران میرے ساتھ وقت گزاری کا کھیل کھیل رہا تھا، وہ میرے خلاف اس میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ مجھے مڈٹرم الیکشن اور اس کے نتائج کی کوئی پروا نہیں۔‘
اس بڑے بول کے فوری بعد ایران کی جانب سے موصول ہونے والی وارننگز نے اس ڈونلڈ ٹرمپ کے اوسان خطا کردیے ہیں، جو طے شدہ مفاہمت کے اعلان میں صرف اس لیے تاخیر کررہے تھے کہ نیتن یاہو لبنان میں اپنی حسرتیں پوری کرسکے، اور انہیں لگتا تھا کہ ایران حسب سابق تماشائی بنا رہے گا۔ حسب سابق سے ہمارا اشارہ لبنان پر ماضی کے ان حملوں کی جانب ہے جب ایران صرف مذمت تک رہتا تھا۔ لیکن اس بار ایران نے جوابی اقدام کی دھمکی دی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہوا، اور لبنان کے دفاع کے لیے ایران نے اسرائیل کو نشانہ بنایا تو اس کا اثر یوں بہت دور رس ہوگا کہ یہ نیو نارمل بن جائے گا۔ آئندہ جب بھی اسرائیل لبنان یا فلسطینی علاقوں کو نشانہ بنائے گا، ردعمل ممکنہ طور پر ایران سے جائے گا اور مہلک جائے گا۔ ایران کی اس ٹھوس وارننگ کے یہ نتائج امریکی انتظامیہ بھی بخوبی جانتی ہے، جس کا اندازہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مبینہ گالم گلوچ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
اس پورے پس منظر میں یہ سوال بے حد اہم ہوجاتا ہے کہ کیا اسرائیل آزاد فلسطین کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی کرنے کی پوزیشن میں رہا؟ ذرا نیتن یاہو کی وہ تین بڑی ناکامیاں دیکھیے جنہوں نے آج کی اس صورتحال کو جنم دیا ہے۔ معاملہ غزہ پر حملے سے شروع ہوا تھا، وہی حملہ جس کا مقصد خود نیتن یاہو نے حماس کا خاتمہ طے کیا تھا۔ کرسکا حماس کا خاتمہ؟ کہاں دیسی ہتھیاروں والی حماس اور کہاں امریکا کی ہر طرح کی عسکری ٹیکنالوجی سے لیس اسرائیل۔ پھر بھی حاصل بس وہ کالک ہوئی جس نے نیتن یاہو کو ایک مطلوب جنگی مجرم بنا دیا ہے۔
حماس کے خلاف شرمناک ناکامی کا داغ دھونے کے لیے نیتن یاہو نے لبنان کا رخ کیا۔ غزہ میں یحییٰ سنوار اور لبنان میں حسن نصراللہ کی شہادت پر 24 گھنٹے کی مسرت تو منا لی گئی مگر نیتن یاہو کو جس فتح کی تلاش تھی وہ غزہ کی طرح لبنان میں بھی نصیب نہ ہوئی۔ جانتے ہیں لبنان سیز فائر اور شام میں ٹرمپ کی القاعدہ کے اقتدار سے حزب اللہ نے جو وقفہ لیا، اس کے اختتام پر پچھلے ڈیڑھ دو ماہ میں حزب اللہ نے نیتن یاہو کو کیا سرپرائز دیا ہے؟ فائبر آپٹک ڈرون متعارف کرایا ہے حزب اللہ نے، اور نتیجہ اس کا یہ ہے کہ امریکی فوج کے ریٹائرڈ سینیئر افسران رپورٹ کررہے ہیں کہ 400 سے زائد مرکاوا ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں صرف 2 ماہ میں حزب اللہ تباہ کرچکی ہے۔
جب غزہ کی طرح لبنان میں بھی نیتن یاہو کو ذلت کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا تو ٹرمپ کے اقتدار میں آتے ہی ان کے آگے ایران پر حملے کا منصوبہ یہ کہہ کر رکھ دیا کہ ایران سے انقلابی راج خاتمے کے بغیر حماس اور حزب اللہ خاتمہ ممکن نہیں، اور ایران سے انقلابی راج کا خاتمہ کٹھ پتلی کی تہران میں آمد اور پھر ٹرمپ اور نیتن یاہو کا فاتحانہ دورہ تہران یہ سب کل ملا کر 94 گھنٹے کی گیم ہے، مگر یہ ارادے، ارادے ہی رہ گئے۔ یوں نیتن یاہو کو گویا تب تک چین نہ آیا جب تک مشرق وسطیٰ پر سے اسرائیل کی بالادستی کا خاتمہ بدست خود نہ کروا لیا۔ سو یہ اب وہ مشرق وسطیٰ نہیں رہا جہاں کوئی گریٹر اسرائیل بننا تھا۔ اب یا تو فلسطین کا قیام عمل میں آئے گا، ورنہ اسرائیل بھی نہیں رہے گا۔ دوہری شہریت بڑی کام کی شے ہے، جو اسرائیل کی نصف سے زیادہ آبادی کو پہلے ہی میسر ہے۔ جو سمندری جہازوں میں آئے تھے، وہ طیاروں جائیں گے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













