پاکستان کے مالیاتی اور بینکنگ نظام نے سال 2025 کے دوران ایک تاریخی سنگِ میل عبور کیا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں 6.8 ملین (68 لاکھ) سے زیادہ نئے منفرد بینک اکاؤنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری کردہ ’نیشنل فنانشل انکلوژن اسٹریٹجی‘2024-2028 کی پہلی سالانہ پیش رفت رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان نئے اکاؤنٹ ہولڈرز میں خواتین کا حصہ سب سے زیادہ یعنی 55 فیصد رہا، جو ملک میں خواتین کی معاشی خودمختاری کی واضح علامت ہے۔
مالیاتی شمولیت میں اضافہ اور صنفی فرق میں ریکارڈ کمی
مرکزی بینک کے مطابق اس نئی حکمتِ عملی کے نفاذ کے پہلے ہی سال تمام سالانہ بنیادی اہداف کو کامیابی سے حاصل کر لیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کی مجموعی مالیاتی شمولیت کی شرح بڑھ کر 69 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، بینکنگ اور مالیاتی رسائی میں مردوں اور عورتوں کے درمیان پایا جانے والا روایتی صنفی فرق بھی 29 فیصد تک کم ہو گیا ہے، جو کہ ایک غیر معمولی معاشی پیشرفت ہے۔
’راست‘ پی ٹو ایم اور ڈیجیٹل فنانس کا فروغ
اکاؤنٹس کی ملکیت میں یہ مضبوط اور تیز رفتار اضافہ پاکستان کی ڈیجیٹل فنانس اور باقاعدہ بینکنگ خدمات کی طرف وسیع تر منتقلی کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:قول و فعل میں تضاد: بینکنگ نظام پر تنقید کرنے والی ٹی ایل پی کا اکاؤنٹس سے منافع حاصل کرنے کا انکشاف
رپورٹ کے مطابق رواں سال کا سب سے بڑا سنگِ میل ملک گیر سطح پر ’راست پرسن ٹو مرچنٹ‘ادائیگیوں کا کامیاب آغاز تھا۔ اس جدید نظام کی بدولت ملک کے 2 ملین (20 لاکھ) سے زیادہ چھوٹے اور بڑے تاجروں کو ’کیو آر کوڈز‘کے ذریعے فوری ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے کے قابل بنایا گیا ہے، جس سے نقد رقم پر انحصار کم ہوا ہے۔
ضلعی ڈیش بورڈز کا قیام اورعالمی سطح پر پاکستان کا اعزاز
پاکستان نے اپنے مالیاتی بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے ضلع کی سطح پر خصوصی ڈیش بورڈز متعارف کرائے ہیں۔
یہ ڈیش بورڈز بینکنگ رسائی، شہریوں کے ڈپازٹس، فنانسنگ اور دیگر اہم معاشی اشاریوں کو باریک بینی سے ٹریک کرتے ہیں۔ اس جدید اقدام کے بعد پاکستان اب دنیا کے ان گنے چنے اور نسبتاً چھوٹے ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو مالی شمولیت کا اتنا تفصیلی اور شفاف ڈیٹا عوامی سطح پر شائع کرتے ہیں۔
کسانوں کے لیے ’زرخیز آسان ڈیجیٹل قرضے‘ کا تحفہ
زرعی شعبے میں ہونے والی ایک اور بڑی ڈیجیٹل پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ ملک کے پہلے مکمل ڈیجیٹل زرعی قرضہ دینے والے پلیٹ فارم ’زرخیز آسان ڈیجیٹل قرضے‘ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:بینکنگ ایس ایم ایس الرٹس مہنگے کیوں؟ ٹیلی کام سیکٹر نے وجہ بتا دی
اس پلیٹ فارم نے اب تک 21 کمرشل بینکوں اور تقریباً 10,000 تاجروں و فروشوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، جبکہ 22,000 سے زیادہ کاشتکار اس پر رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت اب تک کسانوں کے لیے 1.9 ارب روپے کی مالی معاونت (قرضوں) کی منظوری دی جا چکی ہے۔
کم لاگت ہاؤسنگ فنانس اور مستقبل کا لائحہ عمل
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے غریب اور محروم طبقات کو اپنے گھر کی چھت فراہم کرنے کے لیے ایک ’ڈیجیٹل اسکور کارڈ ماڈل‘ بھی متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد کم لاگت ہاؤسنگ فنانس کو آسان بنانا اور قرض تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیشنل فنانشل انکلوژن اسٹریٹجی کے تحت طے کیے گئے 52 اقدامات میں سے 10 مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ باقی پر کام شیڈول کے مطابق جاری ہے۔
آگے بڑھتے ہوئے، اسٹیٹ بینک کا منصوبہ ہے کہ ایجنٹ انٹرآپریبلٹی کو بڑھایا جائے، ملک میں جدید ’ڈیجیٹل ماڈل ولیجز‘متعارف کرائے جائیں اور برانچ لائسنسنگ کے قواعد میں نرمی کی جائے تاکہ مزید عام افراد اور چھوٹے کاروباروں کو رسمی معاشی نظام کے دائرے میں لایا جا سکے۔














