امریکا کی ریاست اوہائیو میں ایک المناک ٹریفک حادثے کے بعد 33 سالہ بھارتی شہری ترسم سنگھ پر 17 سالہ حاملہ لڑکی اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کی ہلاکت کے الزام میں متعدد سنگین مقدمات قائم کر دیے گئے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس نے ترسم سنگھ کی گاڑی کو قریباً 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا اور اسے رکنے کا اشارہ دیا۔ تاہم ملزم نے گاڑی روکنے کے بجائے رفتار مزید بڑھا دی، جس کے بعد پولیس نے اس کا تعاقب شروع کر دیا۔ تعاقب کے دوران گاڑی ایک دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی۔
مزید پڑھیں: عمران خان کے حوالے سے 21 سالہ لڑکی کو حاملہ کرنے کی خبر درست ہے، ہاجرہ خان پانیزئی
حادثے میں ترسم سنگھ کی 17 سالہ حاملہ ساتھی ایشلی ہومز گاڑی سے باہر جا گری اور موقع پر ہی دم توڑ گئی، جبکہ اس کے پیٹ میں موجود بچہ بھی جانبر نہ ہو سکا۔ دوسری گاڑی کا ڈرائیور زخمی ہوا لیکن اس کی جان بچ گئی۔
استغاثہ کے مطابق ترسم سنگھ کے خلاف غیر ارادی قتل، لاپرواہی سے ہلاکت، خطرناک ڈرائیونگ، گاڑی کے ذریعے حملے اور پولیس احکامات کی خلاف ورزی سمیت متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اگر الزامات ثابت ہو گئے تو اسے طویل قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی امیگریشن حکام نے بھی ملزم کے خلاف امیگریشن حراستی حکم جاری کر رکھا ہے، جس کے تحت مقدمے کے اختتام پر اس کی ملک بدری کی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: لاہور: 14 سالہ لڑکی کو مسلسل زیادتی کا نشانہ بنانے کے لیے ملزم نے کیا ہتھکنڈے استعمال کیے؟
دریں اثنا، مقتولہ کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو میں مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو امریکا میں رہنے کی اجازت نہ دی جائے اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اسے ملک بدر کر دیا جائے۔
یہ واقعہ امریکا میں تیز رفتاری اور خطرناک ڈرائیونگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ایک بار پھر سوالات اٹھا رہا ہے، جبکہ مقامی آبادی اور متاثرہ خاندان انصاف کے فوری تقاضے کر رہے ہیں۔














