بنگلہ دیشی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ طویل عرصے سے التوا کا شکار ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے تیسرے ٹرمینل کو فعال اور آپریٹ کرنے کے لیے 19 جولائی تک جاپانی کنسورشیم کے ساتھ حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔
بنگلہ دیشی دارالحکومت میں پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ہوا بازی اور سیاحت کے ریاستی وزیر ایم راشد الزماں ملت نے بتایا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی آف بنگلہ دیش (CAAB) اور جاپانی کنسورشیم کے مابین مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں اور یہ بات چیت جولائی کی آخری ڈیڈ لائن سے پہلے بھی مکمل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ 19 جولائی تک معاہدے پر دستخط کر کے 16 دسمبر کو بنگلہ دیش کے قومی دن کے موقع پر اس تیسرے ٹرمینل کو باقاعدہ آپریشنل کر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان فضائی رابطے بحال، بیمان ایئرلائن کی پرواز کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ کرگئی
اس منصوبے کے لیے بننے والے جاپانی کنسورشیم میں ‘جاپان ایئرپورٹ ٹرمینل کمپنی’، ‘سومیتومو کارپوریشن’، ‘نیپون کوئی’ اور ‘ناریتا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کارپوریشن’ شامل ہیں۔ مجوزہ معاہدے کے تحت یہ جاپانی گروپ ٹرمینل پر گراؤنڈ ہینڈلنگ کے امور سنبھالنے کے لیے ایک دوسرے آپریٹر کا تعین بھی کرے گا۔
تعمیراتی کام مکمل ہونے کے باوجود یہ جدید ترین ٹرمینل پچھلے 18 ماہ سے مکمل طور پر غیر فعال پڑا ہوا تھا۔ اس تعطل کی بنیادی وجہ بنگلہ دیشی ایوی ایشن اتھارٹی اور جاپانی شراکت داروں کے مابین انتظامی اختیارات، آمدنی کی تقسیم (ریونیو شیئرنگ) اور آپریشنل انتظامات پر پائے جانے والے شدید اختلافات تھے۔
دونوں ممالک کے وفود کے درمیان جمعرات کو دو روزہ مذاکراتی سیشن اختتام پذیر ہوا، جس میں مسافروں کے امبارکیشن چارجز، پیشگی ادائیگیوں اور آمدنی کی تقسیم جیسے حل طلب مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ یہ حالیہ بات چیت جاپانی کنسورشیم کی جانب سے جمع کرائی گئی ترمیمی تجویز کی روشنی میں کی گئی۔
اس سے قبل، رواں سال 3 اپریل کو بنگلہ دیش اور جاپان کے مابین ہونے والی اعلیٰ سطح کی دوطرفہ ملاقات بھی کسی بریک تھرو کے بغیر ختم ہو گئی تھی۔ ہوا بازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل پالیسی عدم استحکام کی وجہ سے بنگلہ دیش کا یہ سب سے بڑا ہوا بازی کا انفراسٹرکچر منصوبہ مکمل ہونے کے باوجود طویل عرصے تک بیکار رہا۔ تاہم، وزیر اعظم طارق رحمان نے عہدہ سنبھالنے کے بعد حکام کو جاپانی حکام سے فوری مذاکرات بحال کرنے کی سخت ہدایت کی، جس کے بعد ان دیرینہ تنازعات کو حل کرنے کی کوششوں میں تیزی آئی۔
اربوں ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا 5 لاکھ 42 ہزار مربع میٹر پر محیط یہ تیسرا ٹرمینل بنگلہ دیش کی فضائی صلاحیتوں کو بے پناہ جلا بخشے گا۔ فعال ہونے کے بعد، یہ ٹرمینل سالانہ مزید 12 سے 16 ملین (ڈیڑھ کروڑ کے قریب) مسافروں اور تقریباً 5 لاکھ ٹن کارگو کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے علاقائی فضائی ٹرانسپورٹ کی مارکیٹ میں ڈھاکہ کا پوزیشن مزید مستحکم ہو جائے گی۔














