حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی خفیہ رپورٹس اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے سنسنی خیز انکشافات نے ایک نئے بین الاقوامی سفارتی تنازعے کو جنم دے دیا ہے۔
نامور بھارتی اور غیر ملکی صحافیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘پر شیئر کی گئی معلومات کے مطابق، بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘اور اسرائیل کی ’موساد‘کے نمائندوں نے پاکستان میں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی قیادت کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ حکمتِ عملی تیار کی ہے۔
اس مہم کا بنیادی مقصد اقوامِ متحدہ کی جانب سے ’بی ایل اے‘ پر ممکنہ عالمی پابندیوں کو رکوانا اور پاکستان کو یورپی یونین کی طرف سے ملنے والی ’جی ایس پی پلس‘اقتصادی مراعات کو شدید نقصان پہنچانا ہے۔
پیرس میں خفیہ ملاقات اور نئی تفصیلات
نامور غیر ملکی صحافیوں کی جانب سے تازہ ترین شیئر کی گئی معلومات کے مطابق، بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی ’موساد‘ نے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے امریکی لابنگ فرم ’ایس ایچ ڈبلیو‘گروپ کی خدمات حاصل کی ہیں۔
Joint Indo-Israeli Lobbying Firm Filing Links Directly to RAW-Mossad-BLA European Meetings 🇮🇳 🇮🇱
Public lobbying disclosures confirming that India and Israel have jointly hired the Washington D.C.-based SHW Group cannot be viewed in isolation. They represent the formal… https://t.co/5pV3SkDZTr pic.twitter.com/7A9BrYbtRM
— Iris Recon (@IrisRecon) June 4, 2026
ان تنیوں کے درمیان اپریل میں برطانیہ کے اندر ہونے والی ابتدائی مشاورت کے بعد، 25 مئی 2026 کے لگ بھگ فرانس (پیرس) میں ایک اور انتہائی اہم اور خفیہ اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں مبینہ طور پر ’را‘ اور ’موساد‘ کے اعلیٰ نمائندوں نے بی ایل اے کے اہم رہنما ڈاکٹر نسیم بلوچ کے ساتھ براہِ راست ملاقات کی۔
مذکورہ خفیہ اجلاس کے کچھ اہم نکات بھی منظرِ عام پر آئے ہیں، جن کے مطابق اجلاس میں ایک ایسی طاقتور بین الاقوامی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرنے پر اتفاق کیا گیا جو امریکا اور برطانیہ پر سفارتی دباؤ ڈال سکے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ بلوچ کی نوبل امن انعام کی نامزدگی کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی کا کیا کردار ہے؟
اس دباؤ کا مقصد یہ ہے کہ امریکا اور برطانیہ اقوامِ متحدہ میں بی ایل اے پر پابندی عائد کرنے کی کسی بھی ممکنہ قرارداد کی حمایت نہ کریں۔
رپورٹس میں یہ حیران کن دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اس مہم کی کامیابی کے لیے اسرائیل اپنے کچھ مخصوص مشرقِ وسطیٰ کے اہداف (بشمول لبنان سے متعلق معاملات) پر سمجھوتہ کرنے کے لیے بھی تیار دکھائی دیتا ہے تاکہ بی ایل اے کے خلاف کسی بھی بڑی عالمی کارروائی کو روکا جا سکے۔
پاکستان کے خلاف منظم سفارتی مہم
اس بین الاقوامی حکمتِ عملی کے متوازی، ’را‘ کی جانب سے بلوچ علیحدگی پسند رہنماؤں کو کڑی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ برطانیہ اور یورپی پارلیمنٹ کے اراکین کے ساتھ اپنے رابطے ہنگامی بنیادوں پر بڑھائیں۔
ان رابطوں کا بنیادی مقصد یورپی یونین کے اندر پاکستان کے ’جی ایس پی پلس‘ اسٹیٹس کی تجدید کے خلاف زیادہ سے زیادہ سیاسی حمایت متحرک کرنا ہے، تاکہ پاکستان کو اقتصادی طور پر کمزور کیا جا سکے۔
جی ایس پی پلس اور بی ایل اے کی عالمی حیثیت
یہ سنگین نوعیت کی سازش ایک ایسے نازک وقت پر سامنے آئے ہیں جب پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ’جی ایس پی پلس‘ کے نئے اور سخت ضوابط پر اہم بات چیت چل رہی ہے۔ حال ہی میں یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے آٹھویں ’پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ‘ میں دونوں فریقین نے اس اسکیم کے تحت تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم یورپی یونین نے پاکستان پر انسانی حقوق اور گورننس کے شعبوں میں مزید عملی پیشرفت کے لیے اپنا دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔
مزید پڑھیں:بھارتی خفیہ ایجنسی را کی بڑھتی ناکامیوں پر مودی حکومت کا بڑا فیصلہ، پراگ جین نئے سربراہ مقرر
دوسری جانب، سیکیورٹی کے حوالے سے بی ایل اے کو پہلے ہی امریکا اور دیگر کئی ممالک کی جانب سے ایک ’غیر ملکی دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا جا چکا ہے، اور اب اس تنظیم پر اقوامِ متحدہ کی سطح پر مکمل پابندی عائد کرنے کے مطالبات دنیا بھر میں زور پکڑ رہے ہیں۔
ابھی تک بھارت، اسرائیل یا اس معاملے سے جڑی مبینہ امریکی لابنگ فرموں کی جانب سے ان الزامات کی تصدیق یا تردید کے حوالے سے کوئی باضابطہ یا آفیشل بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
مبینہ لابنگ فرم ’ایس ایچ ڈبلیو گروپ‘ کے حوالے سے پبلک ریکارڈز کی چھان بین کی جائے تو اب تک اسے صرف تجارتی اور سفارتی آؤٹ ریچ کے قانونی کاموں کے لیے ہی استعمال کیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم، ان نئے انکشافات نے عالمی سیاست اور خطے کی سیکیورٹی کی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔














