ایرانی نژاد فرانسیسی مصنفہ، مصورہ، فلم ساز اور سماجی کارکن مارجان ساتراپی 56 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔
پیرس کے صدارتی محل نے ان کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق گرافک ناول سیریز پرسیپولس کے ذریعے دنیا بھر کے قارئین کو متاثر کیا اور آزادی، انسانیت اوراظہارِ رائے کے عالمگیر پیغام کو فروغ دیا۔
مرجان ساتراپی کی شہرت کا سب سے بڑا ذریعہ پرسیپولس ہے، جو پہلی مرتبہ 2000 میں شائع ہوئی۔
Mort de Marjane Satrapi: Emmanuel et Brigitte Macron saluent "une immense artiste qui avait transformé une enfance iranienne en fable universelle" pic.twitter.com/tdqD5FMsu5
— BFM (@BFMTV) June 4, 2026
یہ دراصل ان کی خودنوشت پر مبنی گرافک کہانی ہے جس میں انہوں نے 1979 کے ایرانی انقلاب کے دوران تہران میں گزرنے والے اپنے بچپن اور نوجوانی کے تجربات بیان کیے۔
اس کتاب نے مغربی دنیا کو ایرانی عوام کی روزمرہ زندگی، مشکلات اور جذبات کو سمجھنے کا نیا زاویہ فراہم کیا۔
2008 میں پرسیپولس پر بننے والی اینی میٹڈ فلم، جس کی مشترکہ ہدایت کاری خود ساتراپی نے کی تھی، آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی جبکہ 2007 کے کانز فلم فیسٹیول میں جیوری پرائز بھی حاصل کیا۔
Devastating news about the death of Marjane Satrapi. I had the pleasure of interviewing her last year. We kept in touch. A few months after the passing of the love of her life, I could hear the spark in her voice was gone. You can die of a broken heart.💔 https://t.co/uGudZptVyL pic.twitter.com/eea75g7J3c
— Samira Mohyeddin سمیرا (@SMohyeddin) June 4, 2026
فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ایرانی بچی کی زندگی کو ایسی عالمی داستان میں تبدیل کر دیا جس سے دنیا بھر کے لوگ خود کو جوڑ سکے۔
فرانسیسی پارلیمنٹ کی صدر ییل بران پیوے نے بھی انہیں ‘آزادی کی علمبردار عظیم فنکارہ’ قرار دیا۔
مرجان ساتراپی ایران کی حکومت کی سخت ناقد تھیں اور خواتین کے حقوق کی بھرپور حمایت کرتی تھیں۔
Comic book artist/writer and film director Marjane Satrapi has passed away at only age 56.
Her autobiography comics are a deeply personal and engaging account of the 1979 Iranian Revolution from the perspective of a kid who justifiably does not get the new strict religious… pic.twitter.com/ELxAzJbvDO— Comic Tropes (@CTropes) June 4, 2026
انہوں نے 2022 میں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کی حمایت کی اور ‘وومن، لائف، فریڈم’ کے عنوان سے ایک گرافک مجموعہ بھی شائع کیا۔
وہ متعدد مواقع پر کہہ چکی تھیں کہ فن اور ثقافت کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق مرجان ستراپی اپنے شوہر، سویڈش پروڈیوسر میٹیاس ریپا کی گزشتہ سال وفات کے بعد شدید غمزدہ رہنے لگی تھیں۔
ان کی وفات کے ساتھ ادب، فلم اور انسانی حقوق کے شعبے سے وابستہ ایک توانا اور بے باک آواز خاموش ہو گئی ہے۔













