سائنس دانوں نے دنیا کی پہلی ایسی ویکسین کا انسانوں پر کامیاب ابتدائی تجربہ مکمل کر لیا ہے جس کا بنیادی جزو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کیا گیا۔ ۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت طبی تحقیق اور مستقبل کی وباؤں سے نمٹنے کی تیاری میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیقی جریدے جرنل آف انفیکشن میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق یہ تجرباتی ویکسین مختلف اقسام کے کورونا وائرسز کے خلاف وسیع تحفظ فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کی گئی ہے، جن میں سارس، مرس اور کووڈ-19 جیسے مہلک وائرس بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی کابینہ: ملکی سطح پر ویکسین کی تیاری کے لیے پالیسی کی منظوری سمیت اہم فیصلے
محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی ایک ایسی ’یونیورسل ویکسین‘ کی بنیاد بن سکتی ہے جو نہ صرف موجودہ بلکہ ابھرنے والے نئے وائرسز کے خلاف بھی تحفظ فراہم کرے۔
مصنوعی ذہانت سے ویکسین ڈیزائن کرنے کا پہلا تجربہ
تحقیق کی قیادت برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج کے سائنس دانوں نے کی۔ ان کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ ویکسین کے فعال جزو کو انسانوں پر آزمایا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی ویکسینز کے برعکس، جنہیں وائرس کی نئی اقسام کے مطابق بار بار اپ ڈیٹ کرنا پڑتا ہے، یہ نئی ویکسین وائرس کے پورے خاندان کے خلاف وسیع مدافعتی ردعمل پیدا کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
اے آئی نے مستقبل کے وائرسز کو بھی مدنظر رکھا
ویکسین کے بنیادی جزو، جسے اینٹیجن کہا جاتا ہے، کو تیار کرنے کے لیے سائنس دانوں نے ایک مشین لرننگ الگورتھم استعمال کیا جسے دنیا بھر سے جمع کیے گئے ساربیکو وائرسز کے جینیاتی ڈیٹا پر تربیت دی گئی تھی۔
ساربیکو وائرسز کورونا وائرسز کا وہ گروپ ہے جس میں سارس اور کووڈ-19 کے وائرس شامل ہیں۔ مصنوعی ذہانت نے ہزاروں جینیاتی نمونوں کا تجزیہ کرکے ایسا اینٹی جن تیار کیا جو موجودہ اور ممکنہ طور پر مستقبل میں سامنے آنے والے وائرسز کے خلاف بھی تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ طریقہ کار ویکسین سازی کو محض ردعمل کی بجائے پیشگی تیاری کی سمت لے جا سکتا ہے۔
انسانی آزمائش میں محفوظ قرار
اس ویکسین کا فیز ون کلینیکل ٹرائل 2021 کے آخر سے 2023 تک جاری رہا جس میں تقریباً 40 رضاکاروں نے حصہ لیا۔ فیز ون آزمائش کا بنیادی مقصد ویکسین کی حفاظت اور برداشت کی صلاحیت کا جائزہ لینا ہوتا ہے، نہ کہ اس کی مکمل افادیت کا تعین کرنا۔
مزید پڑھیں:ییلو فیور کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابی، نئی ویکسین بھی مؤثر ثابت
تحقیق کے مطابق کسی بھی رضاکار میں کوئی سنگین مضر اثرات سامنے نہیں آئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویکسین مجموعی طور پر محفوظ اور قابلِ برداشت رہی۔
مدافعتی ردعمل محدود رہا
اگرچہ ویکسین محفوظ ثابت ہوئی، تاہم تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس نے شرکا کے مدافعتی نظام پر صرف محدود اثر ڈالا۔
محققین کے مطابق حاصل شدہ اعداد و شمار سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ ویکسین نے پہلے سے موجود اینٹی باڈیز کی سطح میں نمایاں اضافہ کیا ہو۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ آزمائش کے دوران جاری کووڈ-19 وبا اور شرکا میں پہلے سے موجود مدافعتی تحفظ نے نتائج پر اثر ڈالا ہو سکتا ہے۔
تحقیق میں کہا گیا کہ ویکسین سے پیدا ہونے والا مدافعتی ردعمل توقعات کے مطابق مضبوط نہیں تھا، تاہم ابتدائی مرحلے میں اس قسم کے نتائج غیر معمولی نہیں سمجھے جاتے۔
مستقبل کی وباؤں کے خلاف نئی امید
تحقیق کے شریک مصنف جوناتھن ہینی نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ویکسین سازی کے عمل کو ردعمل پر مبنی نظام سے نکال کر مستقبل کے لیے تیار نظام میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں فلو اور کووڈ جیسی بیماریوں کی ویکسینز کو بار بار اپ ڈیٹ کرنا پڑتا ہے، لیکن ایک کامیاب یونیورسل ویکسین اس ضرورت کو کم کر سکتی ہے اور وائرس کی متعدد اقسام کے خلاف طویل مدتی تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔
اگلے مرحلے میں بڑے پیمانے پر آزمائش
سائنس دان اب فیز ٹو کلینیکل ٹرائل کی تیاری کر رہے ہیں، جس میں زیادہ تعداد میں افراد کو شامل کیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ ویکسین مختلف کورونا وائرسز کے خلاف کس حد تک مؤثر تحفظ فراہم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خطرناک بیکٹیریا ’ہِب‘ دوبارہ پھیلنے لگا، ویکسین کی کم ہوتی شرح پر ماہرین تشویش میں مبتلا
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ آزمائشوں میں بھی مثبت نتائج سامنے آئے تو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ یہ ویکسین مستقبل کی وباؤں سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور ویکسین کی افادیت ثابت کرنے کے لیے مزید وسیع پیمانے پر تحقیق اور کلینیکل آزمائشوں کی ضرورت ہوگی۔














