خطرناک بیکٹیریا ’ہِب‘ دوبارہ پھیلنے لگا، ویکسین کی کم ہوتی شرح پر ماہرین تشویش میں مبتلا

اتوار 5 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں بچوں کو متاثر کرنے والی خطرناک بیکٹیریا بیماری Hib (ہیموفیلس انفلوئنزا ٹائپ بی) کے کیسز میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ویکسینیشن کی شرح میں کمی اس مہلک بیماری کی واپسی کا سبب بن سکتی ہے، جو ماضی میں ہزاروں بچوں کی جان لے چکی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ’ہِب‘ ایک سنگین بیکٹیریا انفیکشن ہے جو خاص طور پر کم عمر بچوں میں دماغی سوزش (میننجائٹس)، نمونیا اور دیگر جان لیوا پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت میں نیپاہ وائرس سے نرس جاں بحق

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویکسین کی بدولت اس بیماری میں نمایاں کمی آئی تھی، لیکن اب دوبارہ کیسز سامنے آنے لگے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ’ہِب‘ ویکسین متعارف ہونے سے پہلے امریکا میں ہر سال تقریباً 20 ہزار بچے اس بیماری کا شکار ہوتے تھے جبکہ ایک ہزار تک اموات بھی ہوتی تھیں۔ ویکسین کے بعد یہ تعداد کم ہو کر چند درجن کیسز تک محدود ہو گئی، تاہم اب ویکسینیشن کی شرح میں معمولی کمی بھی خطرناک رجحان کا باعث بن رہی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں بچوں کو لگنے والی ویکسین کی شرح میں کمی دیکھی گئی ہے، جس کے باعث ایسے کیسز سامنے آ رہے ہیں جو کئی سالوں سے ناپید ہو چکے تھے۔ بعض ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ برسوں بعد دوبارہ ’ہِب‘ کے مریض دیکھ رہے ہیں، جو تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ویکسینیشن کی رفتار مزید کم ہوئی تو اسپتالوں میں ایک بار پھر ایسے مریضوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، خصوصاً کم عمر بچوں میں۔ ان کے مطابق ’ہِب‘ جیسی بیماری نہ صرف جان لیوا ہو سکتی ہے بلکہ بچوں کو مستقل معذوری کا شکار بھی بنا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:2026 کا پہلا پولیو کیس سامنے آگیا، ویکسینیشن کے باوجود وائرس کی گردش جاری

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس بیماری کی روک تھام کا سب سے مؤثر ذریعہ ویکسین ہے، اور والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی مکمل ویکسینیشن یقینی بنائیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ماضی کی طرح یہ بیماری ایک بار پھر بڑے پیمانے پر پھیل سکتی ہے، جس سے صحت کے نظام پر اضافی دباؤ پڑے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رومانیہ کی بندرگاہ پر بحری ڈرون دھماکا، یوکرین کا روس پر سگنل جام کرنے کا الزام، کشیدگی میں اضافہ

مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار

خلائی اسٹیشن پر ہوا کے اخراج میں اچانک اضافہ، خلانوردوں کی ہنگامی کیپسول میں پناہ

بھارتی اعتراضات مسترد: گلگت بلتستان ہمارا داخلی معاملہ، کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، پاکستان

پی آئی اے کا اسلام آباد سے بیجنگ براہِ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے کااعلان، تاریخ سامنے آگئی

ویڈیو

گلگت بلتستان الیکشن: سیاسی گہما گہمی عروج پر، عوام جمہوری عمل کے لیے پرجوش

بجٹ میں ریلیف یا مہنگائی کا طوفان؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں ڈیڈلاک برقرار

اسلام آباد کے لیے جامع اصلاحاتی پیکیج تیار، دارالحکومت کا اپنا وزیراعلیٰ بھی زیر غور

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟