نیٹو کے مشرقی محاذ پر واقع رومانیہ کی بحری بندرگاہ ’کونسٹانٹا‘میں ایک تیل کے ٹرمینل کے قریب بحری ڈرون اچانک خودبخود دھماکے سے پھٹ گیا ہے، جس کے بعد یوکرین نے روس پر اس بحری ڈرون کے سگنل جام کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
جمعے کے روز ہونے والا یہ دھماکا محض ایک ہفتے کے اندر نیٹو کے اس اہم رکن ملک کے گنجان آباد علاقے میں پیش آنے والا دوسرا بڑا واقعہ ہے، جس سے یوکرین جنگ کے اثرات پڑوسی ممالک تک پھیلنے کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس کا یوکرین کے توانائی کے نظام پر بڑا حملہ، شدید سردی میں لاکھوں صارفین بجلی سے محروم
یوکرینی حکام کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس بحری ڈرون کو روس کی طرف سے جام کیا گیا تھا، جس کے باعث وہ اپنا کنٹرول کھو بیٹھا اور بہتا ہوا رومانیہ کے سمندری حدود میں داخل ہو گیا۔
یوکرین نے مزید کہا کہ انہوں نے جانی نقصان سے بچنے کے لیے رومانیہ کے حکام سے فوری رابطہ کر کے انہیں اس خطرے سے قبل از وقت خبردار بھی کردیا تھا۔
رومانیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق حکام کو صبح ساڑھے 6 بجے اس ڈرون کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، جس کے ٹھیک 4 گھنٹے بعد صبح 10:30 بجے یہ آبجیکٹ آئل ٹرمینل سے محض 500 میٹر کی دوری پر خودبخود دھماکے سے اڑ گیا۔
دھماکے کے فوراً بعد کونسٹانٹا پورٹ کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا، جبکہ رومانیہ کے بحری جہازوں اور 2 ہیلی کاپٹروں نے علاقے میں مزید ممکنہ ڈرونز کی تلاش کے لیے وسیع فضائی اور سمندری سرچ آپریشن شروع کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: روس کا یوکرین پر قریباً ایک ہزار ڈرونز کا بڑا حملہ، متعدد ہلاکتیں اور درجنوں زخمی
بعد ازاں علاقے میں کسی دوسرے خطرے کی عدم موجودگی کی تصدیق کے بعد بندرگاہ پر عائد تمام پابندیاں اٹھا لی گئیں۔
یوکرینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ روسی جارحیت صرف یوکرین تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکی ہے۔
دوسری طرف رومانیہ، یوکرین اور یورپی یونین کے حکام نے کونسٹانٹا بندرگاہ پر ہونے والے اس دھماکے کو یوکرین کے خلاف جاری روسی جنگ کا براہِ راست اور خطرناک نتیجہ قرار دیا ہے۔














