مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر اور قائدِ حزبِ اختلاف شاہ غلام قادر نے عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کے حکومتی فیصلے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی بقا، قانون کی عملداری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر میں مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور شرپسند عناصر اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر: ایکشن کمیٹی کی 9 جون کو احتجاج کی کال، الیکشن شیڈول بھی جاری، ریاست میں کیا ہونے جا رہا ہے؟
اپنے خصوصی بیان میں شاہ غلام قاد نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی اس سے قبل بھی 3 مرتبہ ایسے حالات پیدا کر چکی تھی، تاہم ہر بار مذاکرات کے ذریعے معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت نے ماضی میں کمیٹی کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا اور متعدد مطالبات تسلیم بھی کیے، لیکن اس کے باوجود مسائل کے حل کی جانب پیشرفت نہ ہو سکی۔
شاہ غلام قادر نے کہا کہ حالیہ صورتحال میں بھی حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان باقاعدہ مذاکرات ہوئے اور کمیٹی کے مطالبات ماننے کی کوشش کی گئی، تاہم جب تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہ آیا تو حکومت کو پابندی کا فیصلہ کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر سپریم کورٹ میں مہاجرین نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت شروع، آئینی سوالات زیرِ غور
انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ وقت کی اہم ضرورت تھا اور اس کا مقصد ریاست میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر کی جانب سے حالات خراب کرنے کی کوششوں کے باوجود آزاد جموں و کشمیر بھر میں امن و امان کی صورتحال برقرار ہے اور عوام معمول کے مطابق اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
قائدِ حزبِ اختلاف نے واضح کیا کہ کسی بھی فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے یا خطے کے امن کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام معاملات آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر حل ہونے چاہئیں اور ریاستی اداروں کی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے گی۔













