آزاد کشمیر سپریم کورٹ میں مہاجرین نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت شروع، آئینی سوالات زیرِ غور

ہفتہ 6 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ میں مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستوں سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اہم آئینی نوعیت کی سماعت کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں عدالت نے مختلف قانونی نکات پر عدالتی معاونین سے رائے طلب کر لی ہے۔

چیف جسٹس راجہ سعید اکرم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، جس میں جسٹس خالد یوسف چوہدری شامل ہیں، جبکہ جسٹس رضا علی خان سماعت میں شریک نہیں ہو رہے۔ بتایا گیا ہے کہ جسٹس رضا علی خان ماضی میں انہی مہاجرین نشستوں سے متعلق مقدمات میں بطور وکیل پیش ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:مسئلہ کشمیر مہاجرین کی وجہ سے زندہ، پیپلز پارٹی اور ایکشن کمیٹی الیکشن ملتوی کرانے کے لیے ایک پیج پر ہیں، احمد رضا قادری

سماعت کے دوران عدالت نے صدارتی ریفرنس میں اٹھائے گئے آئینی سوالات پر فریقین اور عدالتی معاونین سے تفصیلی رائے طلب کی۔ سینیئر قانون دان راجہ سجاد احمد خان ایڈووکیٹ نے بطور عدالتی معاون دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ آرٹیکل 33 کے تحت اسمبلی کو مکمل قانون سازی کا اختیار حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں اراکین اسمبلی نے مہاجرین نشستوں کے حوالے سے اپنی واضح رائے دے دی تھی، اور اسمبلی ممبران کی یہ رائے ان کے آئینی اختیار کے دائرے میں آتی ہے۔ راجہ سجاد ایڈووکیٹ کے مطابق مہاجرین نشستوں کا معاملہ ہائی پاور کمیٹی میں زیرِ غور لایا جانا چاہیے تھا۔

سماعت کے دوران وفاقی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا حوالہ بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جبکہ بیرسٹر ہمایوں نواز، راجہ صداقت حسین اور سردار عبدالرازق نے بھی اپنے دلائل دیے۔

عدالتی کارروائی میں سابق وزیرِاعظم راجہ فاروق حیدر خان اور مہاجرین نشست کے رکن اسمبلی عبدالماجد خان بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر: ایکشن کمیٹی کی 9 جون کو احتجاج کی کال، الیکشن شیڈول بھی جاری، ریاست میں کیا ہونے جا رہا ہے؟

عدالت اس اہم آئینی سوال کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا 12 مہاجرین نشستیں آئینی ترمیم کے بغیر ختم یا تبدیل کی جا سکتی ہیں، جبکہ موجودہ قانون ساز اسمبلی کے آئینی ترمیم کے اختیار سے متعلق نکات بھی زیرِ بحث ہیں۔

مزید یہ بھی زیرِ غور ہے کہ انتخابات کو روکنے یا آئینی ترمیم کے لیے دباؤ ڈالنے کی قانونی حیثیت کیا ہے، اور مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے آئینی ڈھانچے میں تبدیلی کس حد تک ممکن ہے۔

کیس کی سماعت جاری ہے، اور آئندہ دنوں میں اہم عدالتی پیش رفت متوقع قرار دی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ کا اہم آئینی فیصلہ: نیب مقدمات میں اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت ہی سنے گی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 3 روپے 66 پیسے، ڈیزل 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر مہنگا

گلوبل سپر لیگ: لاہور قلندرز نے ڈیزرٹ وائپرز کو 38 رنز سے شکست دے دی

کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی کے ماڈل نے ٹیسٹ کے دوران حدود توڑ دیں

مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

ویڈیو

پاکستان کا دوٹوک انتباہ، حوثی باغیوں کی خیر نہیں، ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی چال بھی ناکام

مودی نے طلبا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، بھارتی ایجنسی کس طرح پاکستانی صحافیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے

کالم / تجزیہ

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

شفاف انتخابات کا فریب