کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے آزاد کشمیر میں افراتفری پھیلانے کے پیچھے اہم مقاصد کار فرما ہیں، جن کی حقیقت اب کھل کر سامنے آگئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان لوگوں کا سب سے اہم مقصد آزاد کشمیر اور پاکستان کو دو الگ الگ اکائیوں کے طور پر پیش کرنا ہے تاکہ دونوں کے درمیان موجود آئینی، سیاسی اور تاریخی رشتے کو کمزور کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کا دوسرا مقصد پاکستان، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے درمیان موجود تعلقات اور عوامی روابط کو نقصان پہنچانا ہے، جس سے کشمیر کاز کو اجتماعی سطح پر نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
تیسرا مقصد آزاد کشمیر کے عوام میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین کے خلاف نفرت اور بداعتمادی پیدا کرنا ہے، جس سے معاشرتی تقسیم کو فروغ مل سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے علاوہ کشمیر کے مقدمے کو کمزور کرنا بھی ایکشن کمیٹی کے مقاصد کا حصہ ہے، جو انتہائی خطرناک ہے۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دے دیا ہے، جس کے بعد ان پر مختلف پابندیاں عائد ہوگئی ہیں۔
ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے، اور ان کا سب سے بڑا مطالبہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ ہے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر واضح کیا ہے کہ مہاجرین نے تحریک آزادی کشمیر کے لیے اپنے گھر بار چھوڑے ہیں، ان کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور یہ سیٹیں ختم نہیں ہوں گی۔














