بھارت کی ریاست اوڈیشہ میں محکمہ ویجیلنس نے مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں ایک اعلیٰ سرکاری انجینئر کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے مختلف شہروں میں بیک وقت چھاپے مارے ہیں، جس دوران کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادیں، زمینیں اور نقد رقم برآمد ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اوڈیشہ ویجیلنس نے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر بائیکنٹھ ناتھ بہیرا کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کے دوران بھوبنیشور، بالاسور، جاج پور اور بالیگودا سمیت 9 مختلف مقامات پر بیک وقت کارروائیاں کیں۔ چھاپوں کے دوران بینک لاکرز سے تقریباً 2 کروڑ روپے نقد برآمد ہوئے جبکہ مزید قیمتی اثاثے اور جائیدادیں بھی سامنے آئی ہیں۔ کارروائی تاحال جاری ہے۔
🚨 SHOCKING! Around ₹2 crore in cash has been RECOVERED from bank lockers linked to Odisha government engineer Baikuntha Nath Behera during Vigilance raids in a disproportionate assets probe.
=> The counting process is currently underway. pic.twitter.com/TsXnW0Wqvk
— Megh Updates 🚨™ (@MeghUpdates) June 6, 2026
تحقیقات کے مطابق حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم اور اس کے اہل خانہ کے نام پر متعدد لگژری رہائشی عمارتیں، قیمتی زمینیں اور دیگر مالی اثاثے موجود ہیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق صرف بھوبنیشور میں ایک 4 منزلہ عمارت تقریباً 10 ہزار 500 مربع فٹ کے رقبے پر مشتمل ہے، جبکہ مجموعی طور پر 5 کثیر المنزلہ عمارتیں سامنے آئی ہیں۔
ویجیلنس حکام نے مزید بتایا کہ 13 مختلف پلاٹس کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جن میں سے 7 پلاٹس بھوبنیشور کے پوش علاقوں میں واقع ہیں۔ اس کے علاوہ بینک اکاؤنٹس، بچت اسکیموں اور دیگر سرمایہ کاری کی تفصیلات بھی جانچی جا رہی ہیں تاکہ مجموعی اثاثوں کی اصل مالیت کا تعین کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں ’کاکروچ یوتھ موومنٹ‘ کا احتجاجی آغاز، مودی حکومت کے خلاف دلی میں مظاہرہ
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بائیکنٹھ ناتھ بہیرا نے 1999 میں تقریباً 6 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر بطور جونیئر انجینئر سرکاری ملازمت کا آغاز کیا تھا، تاہم وقت کے ساتھ ترقی پا کر وہ اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر کے عہدے تک پہنچے۔ حکام اب اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا ان کے موجودہ اثاثے ان کی معلوم آمدن کے مطابق ہیں یا نہیں۔
ویجیلنس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مجموعی مالی نقصان اور غیر قانونی اثاثوں کی اصل مالیت واضح ہو گی، جبکہ یہ کیس ریاست کے بڑے کرپشن اسکینڈلز میں سے ایک بنتا جا رہا ہے۔












