عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے اپنے بنیادی فلاحی مطالبات کی ریکارڈ حد تک منظوری اور حکومتی سطح پر غیر معمولی پیشرفت کے باوجود احتجاجی سرگرمیوں اور نئی شرائط کے تسلسل نے صورتحال کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ سرکاری رپورٹس اور دستاویزی شواہد کے مطابق حکومتِ آزاد کشمیر نے اکتوبر 2025 کے معاہدے کے بعد سے اب تک کمیٹی کے بیشتر اہم مطالبات پر مؤثر عملدرآمد کیا ہے، تاہم اس کے باوجود احتجاجی سلسلہ اور مطالبات کی توسیع جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟
حکام کے مطابق اصل معاہدے کے بعد جو پیشرفت سامنے آئی ہے اس کے تحت درجنوں اہم عوامی اور انتظامی مطالبات پر عمل کیا گیا، جبکہ بعض امور پر عملدرآمد مکمل اور کچھ پر جزوی پیشرفت ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود کمیٹی کی جانب سے نئے مطالبات سامنے آنے اور احتجاجی کالز کے تسلسل کو حکومتی حلقے ایک تبدیل ہوتے ہوئے سیاسی و آئینی ایجنڈے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا آغاز ستمبر 2023 میں 3 بنیادی نکات پر ہوا تھا، جن میں سستا آٹا، بجلی کے نرخوں میں کمی اور اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے جیسے عوامی فلاحی مطالبات شامل تھے۔ بعد ازاں اکتوبر 2025 کے معاہدے کے بعد حکومت نے متعدد اقدامات کرتے ہوئے ان مطالبات پر عملدرآمد شروع کیا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اب تک 24 مطالبات مکمل طور پر نافذ کیے جا چکے ہیں، 16 مطالبات پر جزوی عملدرآمد ہو چکا ہے جبکہ صرف 4 مطالبات ایسے ہیں جو تکنیکی اور مالیاتی وجوہات کی بنیاد پر زیر التوا ہیں۔
عملدرآمد شدہ اقدامات میں گندم پر سبسڈی، ہیلتھ کارڈ کا آغاز، کابینہ کے حجم میں نمایاں کمی، احتجاج کے دوران درج ایف آئی آرز کی واپسی، معطل ملازمین کی بحالی، متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی اور تعلیمی و انفراسٹرکچر سے متعلق متعدد اصلاحات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟
اس کے باوجود حکومتی ریکارڈ کے مطابق کمیٹی کی جانب سے مطالبات کا دائرہ کار مسلسل وسیع کیا جا رہا ہے۔ پہلے 2025 میں چارٹر کو 38 نکات تک بڑھایا گیا اور بعد ازاں مئی 2026 میں مزید 8 نئے مطالبات شامل کیے گئے۔ حکومتی موقف کے مطابق ان میں سے کئی مطالبات کا تعلق بنیادی فلاحی ایجنڈے کے بجائے آئینی، سیاسی اور انتظامی معاملات سے ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری کے باوجود احتجاجی کالز کا جاری رہنا اور نئے نکات کا اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تحریک کا فوکس ابتدائی عوامی فلاحی نکات سے ہٹ کر وسیع تر سیاسی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت اپنی آئینی ذمہ داریوں کے مطابق عوامی ریلیف اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق صورتحال اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ خطے میں استحکام کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔













