آزاد کشمیر: مطالبات کی ریکارڈ منظوری کے باوجود احتجاج، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ایجنڈا سامنے آگیا

اتوار 7 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے اپنے بنیادی فلاحی مطالبات کی ریکارڈ حد تک منظوری اور حکومتی سطح پر غیر معمولی پیشرفت کے باوجود احتجاجی سرگرمیوں اور نئی شرائط کے تسلسل نے صورتحال کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ سرکاری رپورٹس اور دستاویزی شواہد کے مطابق حکومتِ آزاد کشمیر نے اکتوبر 2025 کے معاہدے کے بعد سے اب تک کمیٹی کے بیشتر اہم مطالبات پر مؤثر عملدرآمد کیا ہے، تاہم اس کے باوجود احتجاجی سلسلہ اور مطالبات کی توسیع جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟

حکام کے مطابق اصل معاہدے کے بعد جو پیشرفت سامنے آئی ہے اس کے تحت درجنوں اہم عوامی اور انتظامی مطالبات پر عمل کیا گیا، جبکہ بعض امور پر عملدرآمد مکمل اور کچھ پر جزوی پیشرفت ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود کمیٹی کی جانب سے نئے مطالبات سامنے آنے اور احتجاجی کالز کے تسلسل کو حکومتی حلقے ایک تبدیل ہوتے ہوئے سیاسی و آئینی ایجنڈے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا آغاز ستمبر 2023 میں 3 بنیادی نکات پر ہوا تھا، جن میں سستا آٹا، بجلی کے نرخوں میں کمی اور اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے جیسے عوامی فلاحی مطالبات شامل تھے۔ بعد ازاں اکتوبر 2025 کے معاہدے کے بعد حکومت نے متعدد اقدامات کرتے ہوئے ان مطالبات پر عملدرآمد شروع کیا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اب تک 24 مطالبات مکمل طور پر نافذ کیے جا چکے ہیں، 16 مطالبات پر جزوی عملدرآمد ہو چکا ہے جبکہ صرف 4 مطالبات ایسے ہیں جو تکنیکی اور مالیاتی وجوہات کی بنیاد پر زیر التوا ہیں۔

عملدرآمد شدہ اقدامات میں گندم پر سبسڈی، ہیلتھ کارڈ کا آغاز، کابینہ کے حجم میں نمایاں کمی، احتجاج کے دوران درج ایف آئی آرز کی واپسی، معطل ملازمین کی بحالی، متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی اور تعلیمی و انفراسٹرکچر سے متعلق متعدد اصلاحات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

اس کے باوجود حکومتی ریکارڈ کے مطابق کمیٹی کی جانب سے مطالبات کا دائرہ کار مسلسل وسیع کیا جا رہا ہے۔ پہلے 2025 میں چارٹر کو 38 نکات تک بڑھایا گیا اور بعد ازاں مئی 2026 میں مزید 8 نئے مطالبات شامل کیے گئے۔ حکومتی موقف کے مطابق ان میں سے کئی مطالبات کا تعلق بنیادی فلاحی ایجنڈے کے بجائے آئینی، سیاسی اور انتظامی معاملات سے ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری کے باوجود احتجاجی کالز کا جاری رہنا اور نئے نکات کا اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تحریک کا فوکس ابتدائی عوامی فلاحی نکات سے ہٹ کر وسیع تر سیاسی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت اپنی آئینی ذمہ داریوں کے مطابق عوامی ریلیف اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق صورتحال اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ خطے میں استحکام کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آئینی معاملات پر دباؤ کی سیاست مسترد،سپریم کورٹ نے مہاجر نشستوں پر حکومتی مؤقف درست قرار دے دیا

سمندری خود مختاری کا تنازع، تائیوان کی جانب سے چینی بحری بیڑے کی پیشقدمی روکنے کے لیے جنگی جہاز روانہ

اب کام بھی ہوگا اور بچوں کی دیکھ بھال بھی : مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب کے سرکاری اداروں میں جدید ڈے کیئر سنٹرز قائم

امریکی ملازمت کے ویزوں میں بھارتی فراڈ کے ریکارڈ قائم، زیادہ تر درخواستیں اور ڈگریاں جعلی نکلیں

فیض اور ایلس کا کتابوں سے اٹوٹ رشتہ

ویڈیو

گلگت بلتستان کے عام انتخابات کے لیے پولنگ کا سلسلہ جاری، 24 نشستوں پر 400 سے زائد امیدوار میدان میں

پھلوں کے بادشاہ کی آمد، خوشبو سے بازار مہک اٹھے

جسمانی معذوری رکاوٹ نہ بن سکی، فنکار نے خوابوں کو رنگوں میں ڈھال دیا

کالم / تجزیہ

فیض اور ایلس کا کتابوں سے اٹوٹ رشتہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ