کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی بااثر ہمشیرہ کم یو جونگ نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک ایک ایٹمی طاقت کے طور پر اپنی حیثیت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا اور کسی بھی قسم کی دھمکی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی ‘کے سی این اے’ کے مطابق کم یو جونگ کا یہ اہم بیان چینی صدر شی جن پنگ کے پیر کے روز شروع ہونے والے تاریخی دورۂ شمالی کوریا سے ٹھیک ایک روز قبل سامنے آیا ہے۔ چینی صدر کا گزشتہ 7 سالوں میں شمالی کوریا کا یہ پہلا دورہ ہے، جس کا مقصد بیجنگ اور پیونگ یانگ کے درمیان روایتی اور سٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس کو ہتھیاروں کی فراہمی: صدر کم جونگ ان کا رواں ماہ روس کا دورہ متوقع
کم یو جونگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر کے مابین مئی میں ہونے والی سربراہی ملاقات کے دوران جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے امریکی دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں ‘جھوٹا’ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنی دفاعی جوہری جنگی صلاحیت کو مسلسل مضبوط بنانا ہمارے سربراہِ مملکت کا وہ ناقابلِ واپسی اور حتمی فیصلہ ہے جس پر بلا شرط عمل کیا جائے گا۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے اس موقف کا اعادہ اور حال ہی میں ایک نئی نیوکلیئر مٹیریل پروڈکشن فیکٹری کا افتتاح دراصل چینی صدر کے ساتھ ہونے والے سربراہی اجلاس سے قبل اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ، اقوام متحدہ پریشان
اس نئی یورینیم افزودگی کی سائٹ کے دورے کے موقع پر کم جونگ ان نے ملک کے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے میں ‘دھماکہ خیز’ حد تک اضافے کا حکم بھی دیا تھا۔
جنوبی کوریا کی نیوز ایجنسی ‘یونہاپ’ نے اتوار کے روز شمالی کوریا کے سرکاری اخبار ‘دی روڈونگ سنمن’ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ کم جونگ ان نے ایک بڑے گولہ بارود کے کارخانے کا دورہ بھی کیا ہے جہاں انہوں نے اگلے 5 سالوں کے دوران ملک کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو ڈھائی گنا تک بڑھانے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔














