ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی اپیل پر سرکاری اسپتالوں میں دوسرے روز بھی ایمرجنسی سروسز کے علاوہ تمام طبی خدمات کا بائیکاٹ جاری رہا۔
جس کے باعث زیرِ علاج مریضوں اور معائنے کے لیے آنے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ سول اسپتال میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب سے حملہ، مبینہ ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
کوئٹہ کے سول اسپتال کے سرجیکل وارڈ میں اسپتال کے ملازم کی جانب سے ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔
Quetta Doctors go on Indefinite Strike After Acid Attack on Colleague #onlineindusnews https://t.co/t4v4QvKvtK pic.twitter.com/xxDYzbmtLM
— Online Indus (@onlineindus) June 8, 2026
واقعے کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہوگیا، تاہم بعد ازاں پولیس نے دعویٰ کیا کہ حملے میں مبینہ طور پر ملوث ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات تسلیم نہ ہونے تک احتجاج اور بائیکاٹ جاری رہے گا۔
ایسوسی ایشن نے سیکریٹری صحت بلوچستان، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور سول اسپتال کے سیکیورٹی انچارج کو عہدوں سے ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا۔
ڈاکٹر رہنماؤں ہوئے کہا کہ متعلقہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔

ینگ ڈاکٹرز کے مطابق اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ طبی عملے کو محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
مزید پڑھیں: لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب گردی کے اندوہناک واقعے کے خلاف کوئٹہ میں احتجاج، ماہرہ خان بھی بول پڑیں
دوسری جانب اسپتالوں میں او پی ڈی اور دیگر معمول کی خدمات متاثر ہونے کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایمرجنسی وارڈز میں طبی سہولیات معمول کے مطابق فراہم کی جا رہی ہیں۔












