سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی اور مواصلات کے مشترکہ اجلاس میں پشاور تا کراچی موٹروے منصوبے کی سست روی اور تاخیر پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
اجلاس کے دوران سینیٹر جام سیف اللہ نے این ایچ اے کو کرپٹ ادارہ قرار دیتے ہوئے اسے صوبوں کے حوالے کرنے کی تجویز دی۔
بعض اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجائے این ایچ اے کو صوبوں کے سپرد کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: این ایچ اے نے ٹول ٹیکس بڑھا دیا، اطلاق 5 اپریل سے ہوگا
این ایچ اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مطلوبہ فنڈز فراہم نہیں کیے جا رہے، جس کے باعث اہم شاہراہی منصوبے تاخیر کا شکار ہیں۔
وزیر منصوبہ بندی اور وزیر مواصلات کی اجلاس میں عدم موجودگی پر اراکین نے شدید احتجاج کیا اور واک آؤٹ کر دیا۔
تاہم چیئرمین کمیٹی سینیٹر جام سیف اللہ اور سینیٹر شہادت اعوان کو منا کر دوبارہ اجلاس میں واپس لائے۔
مزید پڑھیں: مانسہرہ تا چلاس نئی موٹروے کی منظوری، چین سے براہِ راست رابطے کا منصوبہ 2 مرحلوں میں مکمل ہوگا
اجلاس میں سکھر–حیدرآباد–کراچی موٹروے منصوبے کے لیے آئندہ مالی سال کی فنڈنگ پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
سینیٹر پرویز رشید نے استفسار کیا کہ پی ایس ڈی پی میں اس منصوبے کے لیے کتنی رقم مختص کی گئی ہے۔
سیکریٹری منصوبہ بندی نے بتایا کہ وزارت نے اس منصوبے کے لیے 20 ارب روپے تجویز کیے ہیں، جبکہ چیئرمین این ایچ اے کے مطابق مجموعی طور پر 70 ارب روپے درکار ہیں۔
مزید پڑھیں: مانسہرہ تا چین نئی سڑک: کیا یہ وسط ایشیا تک پہنچنے کے لیے افغانستان کا متبادل راستہ بن سکتی ہے؟
سینیٹر شہادت اعوان نے 20 ارب روپے کی کم فنڈنگ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو سکھر–حیدرآباد–کراچی موٹروے کو مکمل ہونے میں 12 سال لگ سکتے ہیں۔
کم فنڈنگ پر احتجاج کرتے ہوئے متعدد سینیٹرز اجلاس سے واک آؤٹ بھی کر گئے۔
بعد ازاں سیکریٹری منصوبہ بندی نے آگاہ کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی حتمی منظوری قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں دی جائے گی۔
مزید بتایا گیا کہ آج متوقع قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس منگل کی صبح ساڑھے 11 بجے تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔














