آزاد جموں و کشمیر مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل طارق فاروق نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کوئی بے آئین یا لاوارث خطہ نہیں۔ یہاں ایک آئینی حکومت، منتخب اسمبلی، عدلیہ، انتظامیہ اور دیگر ریاستی ادارے موجود ہیں جو عبوری آئین 1974 کے تحت اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے بھی اس خطے کو ایک مقامی اتھارٹی (لوکل اتھارٹی) کے طور پر تسلیم کیا ہے، نہ کہ مسلح جتھوں یا خود ساختہ انقلابی گروہوں کے حوالے کیا ہے۔
طارق فاروق نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی مہذب معاشرے میں کسی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسلحہ بردار جتھوں کے ذریعے ریاستی رٹ کو چیلنج کرے، اسمبلی پر قبضے کی کال دے، انتخابات کو سبوتاژ کرے، سرکاری اداروں پر حملے کرے، راستے بند کرے، عوام کو قتل کی دھمکیاں دے اور پھر اپنے آپ کو سیاسی تحریک قرار دے۔
مزید پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟
انہوں نے کہا کہ اگر جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی (کالعدم) ریاستی اداروں پر حملوں، مسلح جلوسوں، اشتعال انگیزی، سرکاری اہلکاروں کے قتل، اسپتالوں پر حملوں اور آئینی نظام کو گرانے کی دھمکیوں میں ملوث پائی گئی ہے تو حکومت آزاد کشمیر کو مکمل قانونی اختیار حاصل ہے کہ اسے کالعدم قرار دے کر اس کے خلاف کارروائی کرے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں یہی قانون لاگو ہوتا ہے اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین اور پاکستان سمیت ہر ریاست اپنے آئینی نظم کو بزور اسلحہ چیلنج کرنے والے گروہوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔
مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت بھی کسی کالعدم یا پرتشدد گروہ کی مالی معاونت، سوشل میڈیا پر تشہیر، اشتعال انگیزی، فنڈ ریزنگ یا بیرون ملک منظم مہم چلانا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف معیارات، دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلق قوانین، سائبر کرائم قوانین اور پبلک آرڈر قوانین کے تحت ایسے افراد تحقیقات، اکاؤنٹس منجمد ہونے، سفری پابندیوں اور قانونی کارروائی کا سامنا کر سکتے ہیں۔
طارق فاروق نے کہا کہ بیرون ملک بیٹھ کر پاکستانی سفارتخانوں کے سامنے احتجاج کی کال دینا یا دفاعی اداروں کے خلاف نعرے لگانا اس وقت ایک سنگین قانونی معاملہ بن جاتا ہے جب اس کے ساتھ تشدد، بغاوت، ریاستی اداروں پر حملوں یا مسلح کارروائیوں کی حمایت شامل ہو۔ سیاسی اختلاف ہر شہری کا حق ہے، لیکن مسلح انتشار کسی کا حق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر فیک نیوز، جھوٹی ویڈیوز، اداروں کے خلاف نفرت انگیزی، افواج پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈا اور نوجوانوں کو تصادم پر اکسانا آزادی اظہار نہیں بلکہ ایک منظم نفسیاتی جنگ ہے۔
ان کے مطابق دنیا بھر کی ریاستیں اب ہائبرڈ وارفیئر اور ڈیجیٹل ریڈیکلائزیشن کو قومی سلامتی کا مسئلہ تصور کرتی ہیں۔
طارق فاروق نے کہا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیر کے سیاسی مقدمے کو سب سے زیادہ نقصان ہمیشہ انہی عناصر نے پہنچایا جو عوامی سیاست کے بجائے تشدد، انتشار اور مسلح دباؤ کے راستے پر چلے۔ سیاسی جدوجہد عوامی مینڈیٹ، آئینی عمل اور مکالمے سے چلتی ہے، نہ کہ بندوق، دھونس اور ریاستی اداروں پر حملوں سے۔
مزید پڑھیں:آزاد کشمیر: مطالبات کی ریکارڈ منظوری کے باوجود احتجاج، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ایجنڈا سامنے آگیا
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی گروہ انتخابات میں حصہ لینے سے انکاری ہو، مگر بندوق کے زور پر اقتدار یا سڑکوں پر اپنی رٹ قائم کرنا چاہے تو وہ جمہوری تحریک نہیں بلکہ آئینی نظام کے خلاف ایک جارحانہ چیلنج بن جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں ریاست کا خاموش رہنا کمزوری نہیں بلکہ عوام کے جان و مال سے غداری تصور کیا جاتا ہے۔
طارق فاروق نے کہا کہ اختلاف رائے، تنقید اور سیاسی جدوجہد جمہوری حق ہیں، تاہم مسلح جتھے، ریاستی بغاوت، قتل کی دھمکیاں، اداروں پر حملے اور بیرونی مدد سے چلنے والی اشتعال انگیزی کسی بھی قانون، آئین یا بین الاقوامی اصول کے تحت قابل قبول نہیں۔














