پاکستان میں ماحول دوست ٹیکنالوجی اور کم کاربن معیشت کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ برطانیہ کے مالی تعاون سے چلنے والے باوقار پروگرام ’کلائمیٹ فنانس ایکسیلیریٹر‘ (سی ایف اے) پاکستان نے سال 2026 کے تعلیمی و تربیتی دورانیے کے لیے ملک کے 11 ممتاز اور اختراعی کاروباری اداروں (اسٹارٹ اپس) کا حتمی انتخاب کر لیا ہے۔
اس پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان کے ایسے ماحول دوست منصوبوں کی معاونت کرنا ہے جو کاربن کے اخراج میں کمی لانے، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے اور بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاری حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
اہم شعبوں میں پائیدار ترقی کی صلاحیت
منتخب کیے گئے ان 11 کاروباری اداروں کا جائزہ ایک انتہائی سخت اور شفاف عمل کے بعد لیا گیا ہے۔ ان کا انتخاب توانائی، ماحول دوست ٹرانسپورٹ، ویسٹ مینجمنٹ (کچرے کی تلفی)، سرکلر اکانومی، جدید زراعت، ماحول دوست تعمیرات اور مالیاتی شمولیت جیسے اہم ترین شعبوں میں ماحولیاتی لچک پیدا کرنے اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ کی تیل، گیس اور معدنیات نکالنے کے لیے پاکستان کو 400 ملین ڈالر معاونت کی پیشکش
یہ پروگرام دراصل پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت، سبز معاشی ترقی اور خاص طور پر نجی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لیے برطانوی حکومت کی وسیع تر تزویراتی معاونت کا ایک اہم حصہ ہے۔
عالمی و قومی کارکردگی کے اعداد و شمار
عالمی سطح پر ‘کلائمیٹ فنانس ایکسیلیریٹر’ اب تک دنیا کے مختلف ممالک میں 230 سے زیادہ گرین پروجیکٹس کی تکنیکی و مالی معاونت کر چکا ہے اور مجموعی طور پر 500 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
اس عالمی فنڈنگ میں سے اب تک تقریباً 40 ملین ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری پاکستان کے حصے میں آئی ہے، جو ملکی گرین سیکٹر کے لیے ایک بڑی کامیابی تسلیم کی جا رہی ہے۔
برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کا پیغام
اس اہم موقع پر پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر ’جین میریٹ‘ نے اپنے خصوصی پیغام میں پاکستانی ٹیلنٹ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے شدید ترین متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے، تاہم اس چیلنج کے باوجود ملک کے نوجوانوں اور کاروباری برادری کے پاس ایسی جدت، غیر معمولی صلاحیت اور ٹیلنٹ موجود ہے جو عالمی موسمیاتی مسائل کے مقامی اور پائیدار حل پیش کر سکتا ہے۔
برطانوی ہائی کمشنر نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’کلائمیٹ فنانس ایکسیلیریٹر‘ کے ذریعے برطانیہ، پاکستانی کاروباروں کو ان کے جدید خیالات کو تجارتی اور سرمایہ کاری کے قابل منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے۔
اس اقدام سے نہ صرف ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی ترقی کو رفتار ملے گی، بلکہ ایک صاف، ماحول دوست اور زیادہ مضبوط مستقبل کی بنیاد بھی رکھی جا سکے گی۔
5 ماہ کی کثیر جہتی تکنیکی معاونت
پروگرام کی شرائط کے مطابق، منتخب ہونے والے ان تمام 11 اداروں کو آئندہ 5 ماہ تک مالیاتی، تکنیکی اور کاروباری ماہرین کی جانب سے گروپ اور انفرادی سطح پر خصوصی تربیت اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
مزید پڑھیں:برطانیہ کی معاونت سے گورننس اصلاحات کے ذریعے پاکستان کی اربوں روپے کی بچت
اس معاونت کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں صنفی مساوات ، معذور افراد کی شمولیت اور سماجی ہم آہنگی کے ماہرین بھی شامل ہوں گے، تاکہ ان منصوبوں کو عالمی سماجی معیارات کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ اس جامع تربیت کا مقصد ان کمپنیوں کی بین الاقوامی مارکیٹ سے سرمایہ کاری حاصل کرنے کی اندرونی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔
اکتوبر 2026 میں موسمیاتی سرمایہ کاروں کے سامنے پیشی
یہ 5 ماہ کی کٹھن تربیت اس وقت اپنے عروج کو پہنچے گی جب اکتوبر 2026 میں ایک خصوصی ’انویسٹر ڈیمو ڈے‘ تقریب منعقد کی جائے گی۔ اس تقریب میں منتخب برانڈز اور اسٹارٹ اپس اپنے حتمی منصوبے دنیا بھر سے آئے ہوئے نامور موسمیاتی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کریں گے۔
یہاں انہیں نہ صرف ممکنہ فنڈنگ حاصل کرنے کے مواقع ملیں گے بلکہ عالمی سطح کے مالیاتی اداروں سے طویل مدتی روابط استوار کرنے کا بہترین پلیٹ فارم بھی میسر آئے گا۔
2022 سے اب تک کا کامیاب سفر اور منتخب کمپنیاں
سال 2022 میں اپنے آغاز کے بعد سے اب تک، سی ایف اے پاکستان مجموعی طور پر 22 بڑے منصوبوں کو تجارتی سرمایہ کاری کے مراحل تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کو تقریباً 40 ملین ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری موصول ہوئی۔
اس پروگرام سے فائدہ اٹھا کر کامیابی کی بلندیوں کو چھونے والی نمایاں کمپنیوں میں دوام لائف، شمس پاور، کانسیپٹ لوپ اور نیشنل فوڈز شامل ہیں۔
2026 کے لیے منتخب کمپنیوں میں گو سیڈ آئی ٹی پرائیویٹ لمیٹڈ، بائیو ویسٹ انرجی وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ، بائیو انرجی سلوشن پرائیویٹ لمیٹڈ، اے ایس انٹرپرائزز، ٹریش اٹ، صحارا ری سائیکلنگ پرائیویٹ لمیٹڈ، ویسٹ بسٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ، انٹرٹیک لیبز، ایکو ایج اے آئی، ڈائیوو پاکستان ایکسپریس بس سروس لمیٹڈ، بسکارو ٹیکنالوجیز ہولڈنگ پی ٹی ای لمیٹڈ اور اخوت اسلامک مائیکروفنانس شامل ہیں۔
موسمیاتی جدت اور پائیدار معیشت کا مستقبل
پروگرام کی ٹیم لیڈ ’وردہ ملک‘ نے منتخب کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام کمپنیاں پاکستان میں ابھرتی ہوئی موسمیاتی جدت کی حقیقی عکاسی کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانی طالبات کیسے آکسفورڈ یونیورسٹی کی فلی فنڈڈ اسکالرشپ حاصل کرسکتی ہیں؟
ان میں ایسے اسٹارٹ اپس اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ادارے شامل ہیں جو ملک کی پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم شعبوں میں دن رات کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مالیاتی، ماحولیاتی اور سماجی شمولیت پر مبنی اس خصوصی معاونت کے ذریعے ان کمپنیوں کی ‘انویسٹمنٹ ریڈینس’ (سرمایہ کاری کے لیے تیاری) کو مزید بہتر بنایا جائے گا، تاکہ وہ نہ صرف پاکستان کی معاشی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں بلکہ موسمیاتی اقدامات کو بھی عالمی سطح پر متعارف کروا سکیں۔














