سپین میں یورپی پارلیمنٹ کے دفتر کے باہر افغان شہریوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعدد یورپی اراکینِ پارلیمنٹ نے طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز کے خلاف احتجاج کیا اور اس دورے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: افغانستان: لباس کے ضوابط پر عمل نہ کرنے کے الزام میں خواتین کی گرفتاریاں، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش
افغان میڈیا کے مطابق مظاہرین کا کہنا تھا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کے باعث ان کی تعلیم، روزگار اور سماجی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔
طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز کے خلاف یورپ میں احتجاج، انسانی حقوق تنظیموں اور افغان شہریوں کی شدید مخالفت
سپین میں یورپی پارلیمنٹ کے دفتر کے باہر افغان شہریوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور یورپی اراکینِ پارلیمنٹ نے طالبان وفد کے دورۂ کے خلاف تحفظات کا اظہار کیا۔@KulAalam #talban pic.twitter.com/FVjyr39lSL— Media Talk (@mediatalk922) June 9, 2026
احتجاج میں شریک افراد کا مؤقف تھا کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں سے متعلق پالیسیوں نے ان کے تحفظ، عزت اور مستقبل کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کیے ہیں۔ مظاہرین نے کہا کہ یورپی اداروں میں طالبان نمائندوں کو مدعو کرنا ان افراد کے جذبات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے جو ان پالیسیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ یورپی ادارے انسانی حقوق اور بالخصوص خواتین کے حقوق کے حوالے سے اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان وفد کو یورپی پارلیمنٹ میں پلیٹ فارم فراہم کرنے کے بجائے افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر توجہ دی جانی چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق متعدد یورپی اراکینِ پارلیمنٹ اور 82 سے زائد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں اور اس حوالے سے یورپی حکام کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاک افغان کشیدگی کا سب سے بڑا بوجھ افغان عوام اٹھانے لگے، کیا دونوں ملکوں میں پھر مذاکرات کا امکان ہے؟
مبصرین کے مطابق افغانستان کی سیاسی اور سماجی صورتحال مسلسل تبدیلی کے مراحل سے گزر رہی ہے، جبکہ ملک کے اندر اور بیرونِ ملک مختلف حلقوں کی جانب سے طالبان حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آوازیں بلند کی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج افغانستان کے مستقبل، انسانی حقوق اور بین الاقوامی سفارتی روابط کے حوالے سے جاری بحث کا حصہ ہیں۔














