وی ایکسکلوسیو، پاکستان کا اگلا وزیراعظم بلاول بھٹو ہوگا اوراپنی ماں اور نانا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک کی خدمت کرے گا، سینیٹر شہادت اعوان

بدھ 10 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیئر رہنما، سینیٹر شہادت اعوان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کئی بار جمہوریت کی خاطر دل پر پتھر رکھ کر فیصلے کیے، سب سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ بننا چاہیے۔

’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ 2 ماہ سے 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ایک فضا قائم کی جا رہی تھی کہ بجٹ سے پہلے ترمیم آ جائے گی، نئے صوبے بن جائیں گے اور این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کر دی جائے گی، تاہم اب بجٹ کی آمد کے باوجود ایسی تمام قیاس آرائیاں دم توڑ چکی ہیں اور فی الحال ایسی کسی آئینی ترمیم پر نہ کوئی مشاورت ہورہی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی باضابطہ عمل جاری ہے۔

مزید پڑھیں: ملک میں نئے صوبے بنانے کی بازگشت، بلاول بھٹو بول پڑے

سینیٹر شہادت اعوان نے کہاکہ شام کے ٹی وی ٹاک شوز میں بھی یہی موضوع زیر بحث رہتا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ 27ویں ترمیم کے بعد جب بھی کوئی آئینی ترمیم آئےگی، اس کا نمبر تو 28واں ہوگا، البتہ یہ کب آئے گی اور کن موضوعات پر مشتمل ہوگی، یہ مستقبل میں ہی طے ہوگا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس اور بعد ازاں پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ فی الحال 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے نہ کوئی گفتگو ہورہی ہے، نہ کوئی مشاورت اور نہ ہی کوئی حتمی خاکہ موجود ہے۔

’پیپلز پارٹی اصولوں کی سیاست پر یقین رکھتی ہے‘

سینیٹر شہادت اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ان کے نزدیک ملک کی واحد بڑی سیاسی جماعت ہے جو اصولوں کی سیاست کرتی ہے، جس نے ہمیشہ پاکستان اور جمہوریت کو مقدم رکھا۔

انہوں نے کہاکہ جمہوریت کے تسلسل اور نظام کو قائم رکھنے کے لیے پیپلز پارٹی نے بارہا دل پر پتھر رکھ کر فیصلے کیے تاکہ ملک کسی غیر جمہوری قوت، آمر یا ڈکٹیٹر کے حوالے نہ ہو جائے، کیونکہ کمزور جمہوریت بھی کسی غیر جمہوری نظام سے بہتر ہوتی ہے۔

’آئینی ترامیم اتفاق رائے سے ہونی چاہییں‘

شہادت اعوان نے کہاکہ پاکستان ایک وفاق ہے، جس کی بنیاد 4 اکائیوں پر مشتمل 1973 کے آئین نے رکھی۔

انہوں نے کہاکہ 27ویں آئینی ترمیم بھی اچانک نہیں آئی، اگرچہ ابتدا میں صرف امکانات پر بات ہورہی تھی، لیکن قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔

ان کے مطابق 1973 کے آئین کی تشکیل کے دوران ذوالفقار علی بھٹو، عبدالحفیظ پیرزادہ، نوابزادہ نصراللہ خان، غوث بخش بزنجو، مفتی محمود اور دیگر رہنماؤں نے طویل مشاورت کے بعد متفقہ آئین تشکیل دیا، جبکہ 18ویں ترمیم پر بھی 7 سے 8 ماہ تک تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ آئینی ترمیم کوئی الہامی کتاب نہیں بلکہ وقت کے تقاضوں کے مطابق اس پر بحث و مباحثہ ہونا چاہیے، تاہم تمام قانونی اور جمہوری تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔

سینیٹر شہادت اعوان نے کہاکہ میثاق جمہوریت، جس پر شہید بینظیر بھٹو اور مسلم لیگ (ن) نے دستخط کیے تھے، دونوں جماعتوں کی سوچ کی عکاس تھی۔

انہوں نے کہاکہ 26ویں ترمیم کے دوران آئینی عدالت کے قیام کی سوچ موجود تھی، تاہم وہ مکمل طور پر عملی شکل اختیار نہ کر سکی۔ بعد ازاں 27ویں ترمیم کے دوران تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہوئیں کہ عدالتی نظام میں بہتری ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ میں آئینی معاملات کی بھرمار کے باعث عام مقدمات سالہا سال زیر التوا رہتے تھے اور لوگوں کو انصاف کے حصول میں دہائیاں لگ جاتی تھیں، اسی لیے عدالتی اصلاحات کی ضرورت محسوس کی گئی۔

’نئے صوبوں کے قیام پر پیپلز پارٹی کا مؤقف‘

سینیٹر شہادت اعوان نے کہاکہ آئین پاکستان واضح طور پر کہتا ہے کہ کسی بھی صوبے کی حدود میں تبدیلی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور نہ کرے۔

انہوں نے کہاکہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے پنجاب اسمبلی پہلے ہی قرارداد منظور کر چکی ہے اور ان کی جماعت سمجھتی ہے کہ جنوبی پنجاب کا صوبہ وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ پنجاب ایک وسیع صوبہ ہے اور دور دراز علاقوں کے عوام کو انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیاکہ قرارداد منظور ہونے کے باوجود جنوبی پنجاب صوبے کا قیام ممکن نہ ہو سکا۔

مزید صوبے یا مضبوط بلدیاتی نظام؟

شہادت اعوان نے کہاکہ صوبے بنانا اتنا آسان نہیں جتنا بعض لوگ سمجھتے ہیں، موجودہ معاشی صورتحال میں 4 اکائیوں کے اخراجات ہی ملک کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں، ایسے میں 12، 24 یا اس سے زیادہ صوبے بنانے کی تجاویز حقیقت پسندانہ نہیں۔

انہوں نے کہاکہ ان کی ذاتی رائے میں اگر لوکل گورنمنٹ سسٹم کو مضبوط اور فعال بنا دیا جائے تو عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں اور نئے صوبوں کی ضرورت بڑی حد تک ختم ہو سکتی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ جن صوبوں سے نئے صوبوں کی آوازیں زیادہ بلند ہوئیں، وہاں بلدیاتی نظام ہی فعال نہیں۔

این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کی مخالفت

این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر شہادت اعوان نے کہاکہ این ایف سی کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور یہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کا متفقہ نظام ہے۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ فارمولے کے تحت 57.5 فیصد وسائل صوبوں کو جبکہ 42.5 فیصد وفاق کو ملتے ہیں، جبکہ وفاق کو دفاع سمیت متعدد قومی ذمہ داریاں بھی نبھانا ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں سے وسائل واپس لینے کی بات کرنے کے بجائے وفاقی حکومت کو اپنے اخراجات اور اداروں کو مؤثر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کا مؤقف یہ ہے کہ وفاق اپنے دائرہ اختیار کے اداروں کو مضبوط کرے اور مالی نظم و ضبط قائم کرے، نہ کہ صوبوں کے حصے میں کمی کی بات کی جائے۔

’گلگت بلتستان میں حکومت پیپلز پارٹی بنائے گی‘

گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ موجودہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی ایک حقیقت ہے اور جو لوگ زمینی حقائق سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی ترقی میں پیپلز پارٹی کا بنیادی کردار رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو نے وہاں سرداری نظام اور ڈپٹی کمشنر سسٹم کا خاتمہ کیا جبکہ آصف علی زرداری نے 2009 کے آرڈر کے ذریعے شمالی علاقہ جات کو نیا تشخص دیتے ہوئے گلگت بلتستان اسمبلی، وزیراعلیٰ اور گورنر کا نظام متعارف کرایا۔

انہوں نے کہاکہ بلاول بھٹو زرداری نے آزادانہ اور شفاف انتخابات کی بات کی تھی اور تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ حالیہ انتخابات مجموعی طور پر آزادانہ اور منصفانہ ہوئے۔

شہادت اعوان نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کو 10 سے 11 نشستیں حاصل ہو چکی ہیں جبکہ چند نشستوں پر دوبارہ انتخاب ہونا باقی ہے، اور پیپلز پارٹی سادہ اکثریت حاصل کر لے گی اور حکومت بنانے کے لیے کسی دوسری جماعت کی محتاج نہیں ہوگی۔

انہوں نے انکشاف کیاکہ کامیاب ہونے والے بعض آزاد امیدوار دراصل پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن ہیں اور وہ پارٹی قیادت سے رابطے میں ہیں۔

آزاد کشمیر، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور انتخابات

آزاد کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر شہادت اعوان نے کہاکہ حکومتوں کی تبدیلی جمہوری عمل کا حصہ ہے اور اس کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں، اسی کے تحت چند ماہ قبل پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے فیصل ممتاز راٹھور وزیراعظم منتخب ہوئے۔

انہوں نے کہاکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ابتدائی مطالبات میں بجلی اور آٹے کے مسائل شامل تھے، جنہیں حکومت نے تسلیم کیا، تاہم بعد میں کمیٹی مزید مطالبات کے ساتھ آگے بڑھی۔

انہوں نے کہاکہ 38 مطالبات میں سے 35 اصولی طور پر تسلیم کر لیے گئے تھے اور مناسب سیاسی حکمت عملی یہی تھی کہ اس پیشرفت کو قبول کرتے ہوئے باقی معاملات بعد میں حل کیے جاتے۔

دہشت گردی اور بیرونی سازشوں کا خدشہ

سینیٹر شہادت اعوان نے کہاکہ پاکستان کا دشمن ملک مختلف طریقوں سے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے، اس لیے یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ آزاد کشمیر جیسے حساس خطے میں بیرونی مداخلت یا سازش کے عناصر بھی موجود ہوں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں 12 مہاجر نشستوں کا معاملہ بھی کشمیر کاز سے جڑا ہوا ہے اور اگر ان نشستوں کو ختم کیا گیا تو دشمن قوتیں یہ پروپیگنڈا کریں گی کہ پاکستان خود کشمیر کے مؤقف سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ بھی قرار دے چکی ہے کہ یہ آئینی معاملہ ہے اور اسے احتجاج یا دباؤ کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی۔

سیاحت، معیشت اور انتخابات

شہادت اعوان نے کہاکہ آزاد کشمیر کی معیشت کا بڑا انحصار سیاحت پر ہے اور اگر حالات خراب کیے گئے اور سیاحوں کو خوفزدہ کیا گیا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان وہاں کے عوام کو ہوگا۔

مزید پڑھیں: ملک میں نئے صوبے بنانے کا شور تو ہے لیکن عملی کام نہیں ہورہا، رانا ثنااللہ

انہوں نے کہاکہ انتخابی شیڈول جاری ہو چکا ہے اور اگر حالات معمول پر رہے تو انتخابی عمل آگے بڑھے گا۔

انہوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور کے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ انسانی جانوں کا تحفظ ہر حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اقتدار سے زیادہ اہم عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp