پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال، نئے تنازعات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ تشویش اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ تشدد میں اضافہ اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ کمزور جنگ بندی کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور اس کے نتائج ناقابلِ برداشت ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملے علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ، سلامتی کونسل میں پاکستان کا انتباہ
انہوں نے زور دیا کہ علاقائی اور عالمی امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے تشدد اور عدم استحکام کے اس سلسلے کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
عاصم افتخار احمد نے ایران کے جوہری مسئلے سمیت تمام حل طلب معاملات کے پرامن حل، سفارتی روابط اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کا مقصد دشمنیوں کی شدت کو کم کرنا، انسانی جانوں کا تحفظ کرنا اور سفارت کاری کو کامیابی کا موقع فراہم کرنا ہے۔
Statement by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad,
Permanent Representative of Pakistan to the UN,
At the Security Council Briefing on Non-proliferation (1737 Committee)
(9thof June 2026)
*****President,
Pakistan is deeply concerned at the ongoing situation in the region marked by… pic.twitter.com/f5vLN6I4PK
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) June 10, 2026
’ہمارا مؤقف علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کے لیے پاکستان کے مستقل عزم کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ پیچیدہ تنازعات اور جغرافیائی سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہم اصولی اور مکالمے پر مبنی سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے دوست ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر تنازع کے پرامن اور سفارتی حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے، اور جب حتمی مقصد کے حصول کا مرحلہ قریب ہے تو ہم تمام فریقوں سے خلوصِ دل کے ساتھ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور امن کو مزید ایک موقع دینے کی اپیل کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: افغان سرزمین سے دہشتگردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ، عاصم افتخار
پاکستانی مندوب نے متحارب فریقین پر زور دیا کہ وہ امن اور سفارت کاری کی راہ پر گامزن رہیں کیونکہ اس راستے میں کامیابی کے روشن امکانات موجود ہیں اور عالمی برادری بھی اسی سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے دونوں فریقوں کی جانب سے پاکستان پر اعتماد کرنے، جنگ بندی کے حصول کے لیے مذاکرات میں شامل ہونے اور ’اسلام آباد مذاکرات‘ میں شرکت کو سراہا، جو گزشتہ 4 دہائیوں سے زائد عرصے میں امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کا براہِ راست رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اقدام عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطوں کے علاوہ خطے اور اس سے باہر موجود شراکت دار ممالک، بالخصوص سعودی عرب، مصر، ترکیہ، قطر اور چین سمیت دیگر ممالک کے ساتھ روابط کے ذریعے اسلام آباد نے مکالمے کی حوصلہ افزائی، پیغامات کے تبادلے میں سہولت اور بامعنی مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔














