ڈیپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن نے ملک بھر کے بینک کھاتہ داروں کے لیے اہم ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے جمع شدہ رقوم کے تحفظ کی حد 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی ہے۔ اس فیصلے سے ملک کے کروڑوں اہل کھاتہ داروں کو اضافی مالی تحفظ حاصل ہوگا۔
مرکزی بینک کے ذیلی ادارے ڈیپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن کی جانب سے جاری سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک کے تمام شیڈولڈ بینکوں میں موجود اہل کھاتہ داروں کی جمع شدہ رقوم اب 10 لاکھ روپے تک محفوظ تصور کی جائیں گی۔ یہ اقدام مالیاتی نظام پر عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
6 برس میں دوسری بار اضافہ
رپورٹ کے مطابق گزشتہ 6 برس کے دوران جمع شدہ رقوم کے تحفظ کی حد میں یہ دوسرا اضافہ ہے۔ اس سے قبل بھی کھاتہ داروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اس حد میں اضافہ کیا گیا تھا، جبکہ اب اسے مزید بڑھا کر 10 لاکھ روپے تک کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف آج پاکستان کے لیے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی آئندہ قسط کی منظوری دیدے گا، وزیر خزانہ
ماہرین کے مطابق تحفظ کی حد میں اضافہ خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کھاتہ داروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا کیونکہ اس سے بینکنگ نظام میں ان کے اعتماد کو تقویت ملے گی۔
9 کروڑ سے زائد کھاتہ دار مستفید ہوں گے
سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 30 جون 2025 تک ملک بھر کے شیڈولڈ بینکوں میں مجموعی طور پر 9 کروڑ 17 لاکھ 80 ہزار کھاتہ دار موجود تھے۔ نئی حد کے نفاذ کے بعد ان میں سے تمام اہل کھاتہ داروں کی جمع شدہ رقوم 10 لاکھ روپے تک تحفظ کی ضمانت کے دائرے میں آ جائیں گی۔
مالیاتی شعبے کے مبصرین کا کہنا ہے کہ کھاتہ داروں کی اتنی بڑی تعداد کو تحفظ فراہم کرنا ملکی بینکاری نظام کے استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
تحفظی فنڈ 200 ارب روپے سے تجاوز کر گیا
مرکزی بینک کے مطابق کھاتہ داروں کے تحفظ کے لیے قائم فنڈ کا حجم 200 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جو اس نظام کی مالی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی رکن بینک کو مالی مشکلات کا سامنا ہو یا وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو جائے تو ڈیپازٹ پروٹیکشن کارپوریشن اہل کھاتہ داروں کو مقررہ حد تک ادائیگی یقینی بناتی ہے۔
مالیاتی استحکام کی جانب اہم قدم
ماہرین کا کہنا ہے کہ جمع شدہ رقوم کے تحفظ کی حد میں اضافہ نہ صرف کھاتہ داروں کے مفادات کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ اس سے بینکاری شعبے پر عوامی اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔
مزید پڑھیں:معاشی اعداد و شمار میں استحکام، پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر 16 ملین ڈالر سے زیادہ ہوگئے
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں یہ اقدام خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے عام شہریوں کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کی جمع پونجی ایک مقررہ حد تک محفوظ رہے گی، خواہ کسی بینک کو غیر معمولی مالی مشکلات ہی کیوں نہ درپیش ہوں۔














