مستقبل میں جین زی سے مودی سرکار کو لاحق خطرات، حکمران طبقہ شدید پریشان

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں طلبہ کی جانب سے چلائی گئی ایک بھرپور احتجاجی تحریک کے سامنے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو بالآخر جھکنا پڑا، اور یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو موجودہ انتظامیہ کے دور میں شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آیا ہے۔

اس پیش رفت نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں نوجوان نسل، یعنی ‘جین زی’، کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو واضح اور مودی سرکار کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔

وزیر تعلیم کا استعفیٰ

ہفتے کے روز بھارت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جو کہ طلبہ مظاہرین کا سب سے اہم مطالبہ تھا۔ یہ احتجاج امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعے پر شدید تشویش کے باعث شروع ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک کی حالت تشویشناک، کاکروچ پارٹی کا ملک گیر بھوک ہڑتال کا اعلان

حکومت کی جانب سے دیگر مطالبات کی منظوری

حکومت نے ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے دیگر مطالبات بھی تسلیم کر لیے، جو اس نوجوان تحریک کی قیادت کر رہی تھی۔ ان مطالبات میں مئی میں پرچہ لیک ہونے کے باعث خودکشی کرنے والے طلبہ کے خاندانوں کو معاوضہ فراہم کرنا بھی شامل تھا۔

مودی کی پہلی انسٹاگرام ریل

سوشل میڈیا پر شدت اختیار کرنے والے اس احتجاج نے 75 سالہ نریندر مودی کو انسٹاگرام پر اپنی پہلی ‘ریل’ بنانے پر مجبور کر دیا، تاکہ وہ نوجوان ووٹرز کے ساتھ اپنا رابطہ مضبوط بنا سکیں۔

اتوار کو اپنی تازہ ترین ریل میں مودی نے بھارتی ٹیک ماہر نندن نیلکنی کی سربراہی میں ایک ‘ہائی پاورڈ ٹاسک فورس’ کے قیام کا اعلان کیا، جو امتحانی نظام میں اصلاحات کی نگرانی کرے گی۔

نوجوان نسل اور مودی حکومت کے درمیان بڑھتی خلیج

رپورٹس کے مطابق ان مظاہروں نے مودی حکومت اور نوجوان بھارتیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو بے نقاب کر دیا ہے، جبکہ یہی نسل آنے والے کئی برسوں تک انتخابی سیاست پر حاوی رہے گی۔

اٹلانٹک کونسل میں جنوبی ایشیائی امور کے سینیئر فیلو مائیکل کوگلمین کا کہنا تھا کہ مظاہرین کا لب و لہجہ نہایت سخت اور بعض اوقات مودی حکومت کے خلاف انتہائی تلخ رہا، جو ان کی حکومت کی عوامی مقبولیت کے پیش نظر حیران کن امر ہے۔

2027 اور 2029 کے انتخابات پر اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ 2027 میں اتر پردیش سمیت کئی اہم ریاستوں میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جہاں نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد موجود ہے۔

2029 کے عام انتخابات تک ‘جین زی’ سب سے زیادہ ‘اثر انگیز طبقہ’ بن چکی ہوگی، جس کے باعث تمام سیاسی جماعتیں ان کی ترجیحات پر توجہ مرکوز کرنے پر مجبور ہوں گی۔

کاکروچ جنتا پارٹی’ کا قیام اور مقبولیت

‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) کی بنیاد 16 مئی کو سیاسی حکمت عملی کے ماہر اور بوسٹن یونیورسٹی کے طالب علم ابھیجیت ڈپکے نے رکھی تھی۔

اس تنظیم کا نام بھارت کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک عدالتی ریمارک سے متاثر ہو کر رکھا گیا، جس میں انہوں نے اداروں پر حملہ کرنے والوں کو ‘پرجیوی’ اور بعض بے روزگار نوجوانوں و کارکنوں کو ‘کاکروچ’ سے تشبیہ دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

اگرچہ چیف جسٹس نے بعد میں کہا کہ ان کے زبانی ریمارکس کو ‘غلط طور پر پیش’ کیا گیا، تاہم اس وقت تک ‘سی جے پی’ سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر مختصر عرصے میں 2 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ فالوورز حاصل کر چکی تھی۔

احتجاج کا آغاز اور پولیس کریک ڈاؤن

‘سی جے پی’ نے 6 جون کو پردھان کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کی کال دی اور انہیں پرچہ لیک اسکینڈل کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

تاہم یہ تحریک 20 جولائی کو اس وقت زور پکڑ گئی جب دہلی پولیس نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کرنے والے طلبہ پر تشدد کیا، جب انہوں نے احتجاجی مقام کے گرد لگائی گئی حفاظتی رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی۔

سیاسی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ٹینیو کے جنوبی ایشیائی امور کے مشیر ارپت چترویدی کے مطابق اس طلبہ تحریک کے مودی حکومت پر ممکنہ سیاسی اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سی جے پی’ کی تحریک اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت کا ‘سیاسی اور ترقیاتی بیانیہ’ نوجوان نسل کے ساتھ اتنی مؤثر انداز میں ہم آہنگ نہیں ہو پا رہا اور اس نے حکومت کی ‘ناقابل تسخیر’ ہونے کے تاثر کو بھی چیلنج کیا ہے۔

دیگر تحریکوں کو تقویت ملنے کا امکان

ماہرین کے مطابق اس طلبہ تحریک کی کامیابی سول سوسائٹی کے دیگر حلقوں کو بھی حکومت کے خلاف آواز اٹھانے پر آمادہ کر سکتی ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ‘سی جے پی’ کی کامیابی سے متاثر ہو کر ایک اور تنظیم ‘ای 20 جنتا پارٹی’ بھی وجود میں آ چکی ہے، جو پیٹرول میں 20 فیصد ایتھنول ملانے کی پالیسی پر بھارتی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں:بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج 2 ہفتوں سے جاری، وزیر تعلیم کی برطرفی کا مطالبہ

ادھر بھارتی کسان بھی امریکہ-بھارت تجارتی معاہدے کے خلاف اپنے تحفظات اجاگر کرنے کے لیے احتجاج کی تیاری میں مصروف ہیں۔

کوگلمین کے مطابق ‘سی جے پی’ کے مظاہرے کی کامیابی سول سوسائٹی کی دیگر تحریکوں کے لیے بھی ایک ‘محرک اثر’ کا کام کرے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مودی حکومت کو 2021 میں کسانوں کے ایک سالہ طویل احتجاج کے سامنے بھی جھکنا پڑا تھا، اور موجودہ طلبہ تحریک کو اسی نوعیت کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے نزدیک گزشتہ ایک دہائی سے مودی حکومت کی سیاسی کشش کا انحصار زیادہ تر معاشی امیدوں پر رہا ہے، تاہم بڑھتی بے روزگاری اور محدود مواقع کے باعث نوجوان طبقے میں یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ حکومتی وعدے عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp