فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے ورلڈ کپ 2026 پر ہونے والی مسلسل تنقید کا سخت الفاظ میں جواب دیتے ہوئے ناقدین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسپین کے فٹبال ورلڈ کپ ہیروز کو ٹماٹروں میں کیوں تولا گیا، یہ دلچسپ روایت کب سے شروع ہوئی؟
فٹبال ورلڈ کپ کے دوران انتظامی مسائل، ویزا سے متعلق شکایات، ریفریوں کے بعض متنازع فیصلوں اور دیگر عوامل پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی تھی جو ٹورنامنٹ کے اختتام کے بعد بھی جاری ہے۔
جیانی انفانٹینو نے انسٹاگرام پر 15 سلائیڈز پر مشتمل ایک طویل پیغام جاری کرتے ہوئے نہ صرف ورلڈ کپ کو کامیاب قرار دیا بلکہ ناقدین کو بھی سخت جواب دیا۔
انہوں نے لکھا کہ جو لوگ اپنے قلم، کاغذ یا کمپیوٹر اسکرین کے پیچھے بیٹھ کر نفرت اور جھوٹی افواہیں پھیلا رہے ہیں میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ جب آپ صرف تنقید کر رہے تھے ہم فیفا میں دنیا کا بہترین ایونٹ منعقد کرنے کے لیے دن رات محنت کر رہے تھے۔
فیفا صدر نے کہا کہ اگر کسی نے بچوں، والدین، بزرگوں اور خاندانوں کو ایک ساتھ فٹبال سے لطف اندوز ہوتے نہیں دیکھا تو انہیں افسوس ہے کہ وہ اس خوشی اور اتحاد کے مناظر سے محروم رہ گئے۔
مزید پڑھیے: کراچی سو رہا تھا، مگر ’منی برازیل‘ جاگ رہا تھا، لیاری میں فٹبال فائنل کی رات کیسی گزری؟
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ میچز ختم ہو گئے لیکن اس سے بھی زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ آپ نفرت اور تنقید میں اس قدر الجھے رہے کہ اس خوبصورت ماحول کو دیکھ ہی نہ سکے۔
انفانٹینو نے ورلڈ کپ کے تینوں میزبان ممالک کی جانب سے اتحاد، تعاون اور سیکیورٹی کے انتظامات کو بھی سراہا اور کہا کہ ٹورنامنٹ نے مختلف قوموں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔
انہوں نے خاص طور پر ایران کی قومی ٹیم کی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ جاری جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی کے باوجود ایرانی ٹیم کی ورلڈ کپ میں موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ فٹبال اختلافات سے بالاتر ہو کر لوگوں کو قریب لا سکتا ہے۔
فیفا صدر نے لکھا کہ جب دنیا فٹبال کا جشن منا رہی تھی آپ نفرت کے بیج بو رہے تھے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ہماری دنیا کو نفرت نہیں بلکہ محبت، تقسیم نہیں بلکہ برداشت اور ماتم نہیں بلکہ جشن کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: فیفا فٹبال ورلڈ کپ میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر شدید تحفظات، وی اے آر فیصلوں نے نئی بحث چھیڑ دی
جیانی انفانٹینو نے ریفریوں کے بعض متنازع فیصلوں اور کچھ تادیبی کارروائیوں پر ہونے والی تنقید کا بھی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلے دنیا کی بڑی فٹبال لیگز میں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں اور یہ کھیل کا حصہ ہیں۔
انہوں نے ناقدین سے اپیل کی کہ وہ صرف منفی پہلوؤں پر توجہ دینے کے بجائے فٹبال کے مثبت اثرات کو بھی دیکھیں کیونکہ اس کھیل نے دنیا بھر کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر انہوں نے لکھا کہ جو لوگ اپنا وقت اور توانائی نفرت پھیلانے میں صرف کر رہے ہیں وہ ایک لمحہ رک کر سوچیں، غور کریں، دعا کریں یا فٹبال کا کوئی میچ دیکھیں اور کھلاڑیوں اور شائقین کے چہروں، آنکھوں اور جذبات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
یہ بھی پڑھیے: فٹبال ورلڈ کپ 2026: سائنسدان 8 برسوں سے کونسی غیر معمولی چیز تیار کر رہے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ان کی دعا ہے فٹبال ہمیشہ نفرت پر غالب رہے۔














