امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کے ذریعے خفیہ طور پر لاکھوں بیرل خام تیل کامیابی سے منتقل کیا ہے، اس خفیہ آپریشن کا بنیادی مقصد عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی کو برقرار رکھنا اور قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ یہ خفیہ سپلائی ہی وہ بڑی وجہ ہے جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں فی الحال 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے برقرار ہیں۔ انہوں نے آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہم نے گزشتہ راتوں میں لائٹس بند کر کے 22 بحری جہازوں کو وہاں سے نکالا۔ کسی کو اس کی کانوں کان خبر نہیں ہوئی، یہاں تک کہ ایران کو بھی اس کا علم اب ہورہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر دوبارہ سخت ترین حملوں کا اعلان
امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خلیج فارس میں پھنسے درجنوں تجارتی جہاز امریکی بحریہ کے ساتھ قریبی اور خاموش کوآرڈینیشن کے بعد آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
عہدیدار کے مطابق امریکی افواج ان تجارتی جہازوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں جو اس علاقے سے محفوظ طریقے سے گزرنا چاہتے ہیں، تاہم امریکی بحریہ ان جہازوں کو باقاعدہ اسکارٹ (حفاظتی پہرا) فراہم نہیں کررہی۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے اس خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب سویلین جہازوں پر تین ڈرونز داغے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: امن معاہدہ: ایران نے بہت وقت ضائع کیا ہے، تاخیر کی قیمت چکانی پڑے گی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
دوسری جانب، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا تجارتی جہازوں پر ہونے والے ایرانی حملوں کا جواب دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ڈرونز غیر واضح ہدف پر لگتے ہیں جس سے کسی بھی بڑے بحری جہاز کو نقصان پہنچنے کی صورت میں شدید ماحولیاتی تباہی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر تجارتی جہازوں پر حملے بند کردیے جائیں تو امریکا کی طرف سے بھی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔













