لاہور پولیس نے افسران اور اہلکاروں کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پولیس یونیفارم میں تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر مکمل پابندی لگاتے ہوئے ایک سخت نئی سوشل میڈیا پالیسی نافذ کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس اہلکاروں کی ’خدمت والی فرمائش‘ پوری نہیں کر سکتے، انہیں واپس بھیجا جائے، چیئرمین داخلہ کمیٹی
اس اقدام کا مقصد پولیس افسران کی جانب سے اختیارات کے ممکنہ ناجائز استعمال، وردی کے ذریعے رعب داب جمانے اور آن لائن نامناسب رویوں کو روکنا ہے۔
نئے حکم نامے کے تحت ایس ایچ اوز، انسپکٹرز، سب انسپکٹرز اور اسسٹنٹ سب انسپکٹرز اے ایس آئیز سمیت تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ذاتی فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز کا جائزہ لیں اور وہاں موجود کسی بھی قسم کی باوردی یا قابل اعتراض تصاویر، ویڈیوز فوری طور پر ہٹا دیں۔
پالیسی کے مطابق پولیس افسران کو ذاتی اکاؤنٹس پر نجی سرگرمیوں کے دوران وردی پہن کر تصاویر، ویڈیوز، سیلفیاں یا دیگر مواد اپ لوڈ کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔ وردی میں ملبوس تمام مواد صرف اور صرف لاہور پولیس کے آفیشل سرکاری اور مجاز اکاؤنٹس کے ذریعے ہی شیئر کیا جا سکے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پہلے سے موجود وردی والی پوسٹس بھی فوری طور پر ڈیلیٹ کر دی جائیں۔ اس پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی افسر یا اہلکار کے خلاف سخت محکمانہ اور تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مزید پڑھیے: ’پنجاب پولیس پاکستان ایپ‘ گمشدہ دستاویزات کی رپورٹ اب گھر بیٹھے ممکن
یہ اقدام پولیس فورس کے پیشہ ورانہ تشخص کو برقرار رکھنے، محکمانہ نظم و ضبط کو مضبوط بنانے اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کے ساتھ مثبت رابطے کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
اس سے قبل 2021 میں بھی لاہور پولیس نے اسی نوعیت کی ہدایات جاری کی تھیں جبکہ سوشل میڈیا کے دور میں بعض افسران کی ذاتی پوسٹس وائرل ہو کر محکمے کی ساکھ کو متاثر کر چکی ہیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب پولیس بھرتیوں میں طبی قوانین جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ہدایت، وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ
نئی پالیسی کے تحت سوشل میڈیا کے استعمال کے قواعد و ضوابط کو مزید مؤثر اور منظم بنایا گیا ہے جو پولیس کو ایک غیر جانبدار، پیشہ ور اور عوام دوست ادارے کے طور پر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔













