قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین راجہ خرم نواز نے اسلام آباد کی چیک پوسٹوں پر تعینات پنجاب پولیس اہلکاروں کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خصوصی ناکہ لگا کر مجھ سے رشوت طلب کی گئی، اسلام آباد پولیس پر فرخ کھوکھر کے سنگین الزامات
انہوں نے کہا کہ چیک پوسٹوں پر اہلکار شہریوں اور حتیٰ کہ پارلیمنٹیرینز کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کر رہے ہیں اور اسلام آباد پولیس کے حکام سے مطالبہ کیا کہ پنجاب سے بلائے گئے اہلکاروں کو واپس بھیجا جائے کیونکہ ’ان کی خدمت ہم نہیں کر سکتے‘۔
کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں پر قائم چیک پوسٹوں اور سکیورٹی انتظامات کا معاملہ زیر بحث آیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت کے داخلی اور خارجی راستوں پر اس وقت 11 چیک پوسٹیں موجود ہیں، ماضی میں یہ تعداد 17 تھی۔ ممکنہ ایران امریکا مذاکرات اور حساس حالات کے پیش نظر پنجاب پولیس کے اہلکار بھی طلب کیے گئے تھے اور کچھ اب بھی اسلام آباد میں تعینات ہیں۔
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے کہا کہ حیران کن طور پر پنجاب پولیس کے اہلکار چیک پوسٹوں پر گاڑیاں روک کر یہ بھی نہیں دیکھتے کہ سامنے کون ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک موقعے پر اہلکاروں کو بتایا گیا کہ وہ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین ہیں مگر جواب ملا: ’جی آپ ٹھیک ہیں چیئرمین ہیں، لیکن ہم آپ کے مہمان آئے ہوئے ہیں، ہماری خدمت کریں‘۔ چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم لوگ ان کی خدمت کرتے کرتے تھک گئے ہیں لیکن یہ لوگ نہیں تھکتے‘۔
مزید پڑھیے: اہم حکومتی شخصیات کا ڈیٹا لیک: وزیر داخلہ نے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی
کمیٹی اجلاس میں ایک اور رکن قومی اسمبلی نے بھی پنجاب پولیس کے اہلکاروں کے رویے کی شکایت کی۔ رکن اسمبلی کے مطابق جب امریکہ اور ایران سے متعلق اہم مذاکرات کے دوران وہ پارلیمنٹ کی طرف جا رہے تھے تو ایک چیک پوسٹ پر پنجاب پولیس اہلکار نے انہیں روک لیا اور کہا کہ ’آپ پیدل جا سکتے ہیں، گاڑی نہیں لے کر جا سکتے‘۔ رکن اسمبلی نے اپنا پارلیمانی کارڈ دکھایا مگر اہلکار نے جواب دیا: ’ہم ایم این اے کو نہیں مانتے، ہمیں جو حکم ملا ہے اس پر عمل کریں گے‘۔ بعد ازاں رکن اسمبلی کو ایم این اے ہاسٹل اور پارلیمنٹ تک پیدل جانا پڑا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بھی چیک پوسٹوں پر اہلکاروں کے رویے اور تربیت کے فقدان پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک رکن پارلیمنٹ کو سپاہی نے اسلحہ لائسنس اور شناختی کارڈ دکھانے کے باوجود روک لیا اور یہاں تک کہا کہ ’آپ تھانے جائیں گے‘۔ بعد ازاں ایس ایچ او موقع پر پہنچا مگر سپاہی نے انکار کیا اور اہلیت کے باوجود رکن اسمبلی کو تھانے لے جانے کی کوشش کی۔
کمیٹی کے ارکان نے ریڈ زون میں داخلے کے نظام پر بھی شدید تنقید کی۔ ارکان کے مطابق اکثر اوقات 2 یا 3 اہلکار آپس میں گفتگو میں مصروف ہوتے ہیں جبکہ صرف ایک لائن کھلی ہوتی ہے جس کے باعث شدید رش اور مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا دور، وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی اور ایرانی سفیروں سے ملاقاتیں
اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی محمد جواد طارق نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب سے آئے بیشتر جوانوں کو واپس بھیج دیا گیا ہے دیگر بھی جلد روانہ کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس میں نئے اور پڑھے لکھے اہلکار شامل ہوئے ہیں اور ٹریفک و چیکنگ کے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لین کے اندر گاڑی کھڑی کرنے کی اجازت نہیں، زگ زیگ نظام ختم کر دیا گیا ہے اور چیکنگ الگ لین میں ہونی چاہیے تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اجلاس میں دیہی علاقوں سے آنے والے شہریوں کے مسائل بھی زیر بحث آئے۔ ارکان نے شکایت کی کہ دور دراز علاقوں سے ٹریکٹر کے لیے ڈیزل لے کر آنے والے کسانوں اور شہریوں کو بھی چیک پوسٹوں پر روک کر ہراساں کیا جاتا ہے اور بعض اہلکار مبینہ طور پر پیسے طلب کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سینیٹ داخلہ کمیٹی: ‘کوکین کوئین’ کے گاہکوں میں شامل ججز، سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے نام طلب
قائمہ کمیٹی نے زور دیا کہ چیک پوسٹوں پر تعینات اہلکاروں کی تربیت بہتر بنائی جائے، پارلیمنٹیرینز اور شہریوں کے ساتھ رویے میں بہتری لائی جائے اور سکیورٹی کے نام پر غیر ضروری رکاوٹیں ختم کی جائیں۔














