ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کا کردار: کیا اسلام آباد نے جنگ کو پھیلنے سے روک دیا؟

جمعرات 11 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران، امریکا، اسرائیل جنگ میں کم از کم 2 مواقع ایسے آئے جب پاکستان نے جنگ بندی کروانے اور اس کی توسیع میں اپنا کردار ادا کیا۔

7 اپریل 2026 کو وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ٹرمپ سے درخواست کی کہ ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن میں 2 ہفتے کی توسیع کی جائے تاکہ سفارتکاری کو موقع مل سکے۔ یاد رہے یہ درخواست اس وقت کی گئی جب صدر ٹرمپ ایرانی تہذیب کو مٹانے کی دھمکی دے چکے تھے، جبکہ اس درخواست کے بعد واشنگٹن نے عارضی جنگ بندی کردی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ثالثی میں سرگرم، امید ہےایران سےمعاہدہ ہوجائیگا، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

دوسری بار 21 اپریل 2026 کو جب جنگ بندی ختم ہونے والی تھی اور امریکا دوبارہ حملوں کی دھمکی دے رہا تھا، صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کردی ہے۔ ٹرمپ نے خود کہا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائی مؤخر کی جا رہی ہے تاکہ مذاکرات جاری رہ سکیں۔

اسی توسیع کے نتیجے میں اسلام آباد میں ایران، امریکا مذاکرات کے لیے وقت ملا اور پاکستان ثالثی کے عمل کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہا۔

امریکی اور اسرائیلی حملے، ایرانی جوابی کارروائیاں، آبنائے ہرمز کی سلامتی سے متعلق خدشات اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کی۔ ایسے ماحول میں پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا جس نے نہ صرف سفارتی رابطوں کو زندہ رکھا بلکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے عملی کردار بھی ادا کیا۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان کی شمولیت کس قدر فائدہ مند ثابت ہوئی اور اس وقت اسلام آباد کیا کردار ادا کر رہا ہے، اور عالمی مبصرین اس کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

مئی تا جون جنگ بندی قائم رکھنے کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششیں

اسلام آباد مذاکرات کے بعد پاکستان نے ثالثی کا عمل جاری رکھا۔ پاکستانی قیادت کے سعودی عرب، ایران، امریکا، مصر، کویت، قطر کے ساتھ ساتھ چین کے ساتھ بھی مسلسل رابطے رہے۔

جون 2026 تک بھی ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات پاکستان کے ذریعے جاری رہنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ پاکستان بار بار فریقین کو تحمل اور سفارتکاری کی طرف واپس لانے کی کوشش کرتا رہا۔

مئی اور جون میں پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کے دورے کیے جبکہ وزیراعظم اور وزیر خارجہ خطے کے اہم ممالک کے ساتھ رابطے میں رہے۔

گو کہ اسرائیل مسلسل ایسی حرکتیں کر رہا ہے جس سے مذاکراتی عمل متاثر ہو، مثلاً غزہ اور لبنان میں حملے، لیکن دوسری طرف پاکستان دنیا کے اہم ترین ممالک کے اعتماد کو لے کر امن کے لیے کوشاں ہے۔

بین الاقوامی اعتراف

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 29 مئی کو پاکستان کی سفارتی اور ثالثی کوششوں کو سراہا۔

جبکہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کالاس نے یکم جون کے مشترکہ اعلامیے میں ایران۔امریکا مذاکرات کے لیے پاکستان کے “تعمیری اور بامعنی” کردار کی تعریف کی۔

تلخ ادوار میں رابطے برقرار رکھنے کا کردار

گزشتہ ایک سے ڈیڑھ ماہ کے اندر کئی ایسے مواقع آئے جن میں یوں لگا کہ جیسے جنگ بندی ختم اور بڑی جنگ پھر سے شروع ہو جائے گی۔ امریکی صدر کی جانب سے تند و تیز بیانات، ایران کے جوابی بیانات اور تلخیاں بڑھانے والے واقعات ہوئے لیکن پاکستان نے رابطوں کو کبھی ٹوٹنے نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیں: شی جن پنگ کی مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی کے لیے پاکستان کےتعمیری کردار کی تعریف

پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان رابطے بحال رکھنے، مذاکراتی ماحول پیدا کرنے اور کشیدگی کو مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ یہ کہنا مبالغہ ہوگا کہ جنگ صرف پاکستان کی وجہ سے رکی رہی، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسلام آباد نے ایسے وقت میں سفارتی دروازے کھلے رکھے جب دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے تقریباً منقطع ہوچکے تھے۔

اسلام آباد میں ہونے والے مذاکراتی ادوار کے دوران دونوں فریقوں کے نمائندوں نے تجاویز کا تبادلہ کیا اور متعدد حساس معاملات پر بیک چینل رابطے جاری رہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے نہ صرف میزبانی کی بلکہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے بھی کوششیں کیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مواقع پر شدید فوجی کشیدگی کے باوجود مذاکراتی عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

کیا اب بھی سفارتکاری کا عمل جاری ہے؟

موجودہ صورتحال میں بھی اسلام آباد سرگرم سفارتکاری جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستانی حکام تہران، واشنگٹن، دوحہ اور دیگر متعلقہ دارالحکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ پاکستان کی حکمت عملی بنیادی طور پر تین نکات پر مشتمل ہے:

ایران اور امریکا کے درمیان رابطے کا چینل ہر صورت برقرار رکھا جائے۔

تنازعے کو پورے خطے میں پھیلنے سے روکا جائے۔

دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔

پاکستانی قیادت اس بات پر مسلسل زور دے رہی ہے کہ موجودہ بحران کا حل فوجی کارروائیوں میں نہیں بلکہ سفارتکاری میں پوشیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد بیک چینل رابطوں، پیغامات کی ترسیل اور ممکنہ جنگ بندی تجاویز پر کام کررہا ہے۔ کئی مبصرین کے نزدیک پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جن پر تہران اور واشنگٹن دونوں اعتماد کرتے ہیں، اور یہی اس کی سفارتی اہمیت کا بنیادی سبب ہے۔

بین الاقوامی خارجہ امور کے ماہرین کی رائے

بین الاقوامی تھنک ٹینکس اور ماہرینِ امورِ خارجہ بھی پاکستان کے کردار کو اہم قرار دے رہے ہیں۔ برطانوی ماہرِ جنوبی ایشیا فرزانہ شیخ نے 21 اپریل کو اپنے مضمون میں لکھا کہ پاکستان حالیہ بحران میں ’تمام فریقوں کے اعتماد کے ساتھ ایک فعال ثالث‘ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ان کے بقول اسلام آباد نے خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر منوایا ہے جو پیچیدہ علاقائی تنازعات میں رابطے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے ثالثی کردار پر تنقید کرنیوالے امریکی سینیٹر کے جنگی مؤقف پر سخت سوالات اٹھ گئے

امریکی تحقیقی ادارے اسٹمسن سینٹر کے ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی پیغامات کی ترسیل اور رابطوں کے تسلسل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں جب براہ راست بات چیت تقریباً ناممکن ہو جائے، تیسرے فریق کی حیثیت سے پاکستان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

کیا پاکستان دوبارہ مذاکرات شروع کروانے میں کامیاب ہو جائے گا؟

پاکستان کی اصل آزمائش یہ ہے کہ آیا وہ فریقین کو ایک بار پھر بامعنی مذاکرات کی میز پر لاسکتا ہے یا نہیں۔ اگر اسلام آباد اس مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ صرف پاکستان کی سفارتی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک اہم پیشرفت ثابت ہوسکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp